میر رضا قتل کیس میں تحقیقات کے دوران ایک انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے جس نے کیس کا رخ مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ فرانزک ماہرین کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق، نوجوان تاجر میر رضا علی کے جسم کے اندرونی حصوں سے تیزاب کے شواہد ملے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تیزاب کے باعث مقتول کے معدے کو شدید نقصان پہنچا اور ان کے پھیپھڑے بھی بری طرح متاثر ہوئے، جو ان کی موت کی فوری وجہ بنے۔
میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میں فرانزک شواہد
پولیس اور تفتیشی حکام اب اس کیس کو محض ایک عام قتل کے بجائے ایک منظم اور سفاکانہ منصوبہ بندی قرار دے رہے ہیں۔ میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کرنے والی میڈیکل بورڈ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ تیزاب کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قاتلوں نے انتہائی احتیاط سے منصوبہ بندی کی تھی۔ پھیپھڑوں کی تباہی یہ ثابت کرتی ہے کہ مقتول کو زبردستی کوئی مہلک کیمیکل کھلایا یا پلایا گیا، جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔
اب آگے کیا ہوگا؟
تفتیشی ادارے اب اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ تیزاب کہاں سے خریدا گیا اور اس تک کس کی رسائی تھی۔ پولیس کی جانب سے درج ذیل اقدامات کیے جا رہے ہیں:
- مقتول کے آخری 48 گھنٹوں کے موبائل فون ریکارڈ اور ڈیجیٹل ڈیٹا کی جانچ۔
- مقتول کے قریبی کاروباری شراکت داروں اور مشکوک افراد سے تفتیش۔
- آخری معلوم مقامات کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ۔
عوام کے لیے ہدایات
مقتول کے لواحقین انصاف کے منتظر ہیں اور پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مجرموں کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ میر رضا قتل کیس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں پر یقین نہ کریں اور صرف متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ تصدیق شدہ معلومات پر انحصار کریں۔ اگر آپ کے پاس اس کیس کے بارے میں کوئی بھی ٹھوس معلومات یا سراغ موجود ہے، تو فوری طور پر اپنے قریبی پولیس اسٹیشن سے رابطہ کریں تاکہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
