بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے سندھ طاس معاہدے سے متعلق دیے گئے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ جمعہ 14 اگست 2026 کو پناجی، گوا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلام آباد کو دہشت گردی کے باعث ضائع ہونے والے بھارتی خون کے ہر ایک قطرے کا حساب دینا ہوگا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان دریائی پانیوں کی تقسیم کے معاہدے یعنی سندھ طاس معاہدے کے مستقبل پر سفارتی کشمکش جاری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس سے قبل سندھ طاس معاہدے کے امور پر تشویش کا اظہار کیا تھا، جس پر نئی دہلی کے سیاسی حلقوں کی طرف سے اب یہ سخت جوابی بیان سامنے آیا ہے۔
سندھ طاس معاہدے کا تنازعہ اور سکیورٹی
ورلڈ بینک کی ثالثی میں 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ ماضی میں کئی جنگوں اور کشیدہ حالات کے باوجود برقرار رہا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں بھارتی سیاسی حلقوں کی جانب سے سرحدی سلامتی کے خدشات کو بنیاد بنا کر اس معاہدے پر نظرثانی کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔
ایم جے اکبر کے تازہ ترین بیانات اس عزم کو ظاہر کرتے ہیں کہ نئی دہلی اس مؤقف پر قائم ہے کہ دوطرفہ آبی تعاون اور سلامتی کے امور ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے عام شہریوں اور بالخصوص پنجاب اور سندھ کے کسانوں کے لیے پانی کے تنازعات کا طول پکڑنا زرعی معیشت اور خوراک کی حفاظت کے حوالے سے گہری تشویش کا باعث ہے۔
پاکستان کے لیے مطالبات
پناجی میں اپنے خطاب کے دوران بھارتی رہنما نے تمام تر ذمہ داری پاکستانی حکام پر عائد کی کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے خلاف ناقابل تردید کارروائی کریں۔
- اسلام آباد کو ہر ایک شہری اور سکیورٹی اہلکار کی جان کے نقصان کا جواب دینا ہوگا۔
- سکیورٹی کے موثر اقدامات کے بغیر سفارتی مذاکرات کی بحالی ممکن نہیں۔
- پانی کی تقسیم کے معاملات کو علاقائی استحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔
اگرچہ پاکستانی حکام اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ پانی ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے جسے سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جانا چاہیے، لیکن بھارتی قیادت اس بحث کو قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھتی ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور اسلام آباد میں وزارت خارجہ کی جانب سے اس بیان پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ آپ کو اس تنازعے میں بین الاقوامی ثالثی اور ورلڈ بینک کے کردار پر بھی نظر رکھنی چاہیے کیونکہ یہ معاملہ دونوں ممالک کے کسانوں اور معیشت کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ پاکستانی پالیسی سازوں کو اندرونی سطح پر آبی وسائل کے بہتر انتظام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی بنانا ہوگی۔
