موبائل فونز کی قیمتوں میں ایک اور اضافے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں، اور یہ خبر ایسے ہر شخص کے لیے پریشان کن ہے جو آنے والے دنوں میں نیا ہینڈ سیٹ خریدنے کا سوچ رہا ہے۔ اگرچہ ملکی کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پی ٹی اے کی بھاری ڈیوٹیز نے کراچی کے صدر یا لاہور کے حفیظ سینٹر کے خریداروں کو پہلے ہی مشکل میں ڈال رکھا ہے، لیکن اس بار دباؤ براہ راست عالمی سپلائی چین کی طرف سے آ رہا ہے۔ دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹر فیکٹریاں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سسٹمز اور جدید سرورز کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے میں مصروف ہیں، جس کی وجہ سے اسمارٹ فون چپس کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔
ایک عام پاکستانی گھرانے کے لیے یہ عالمی بحران سیدھا ان کے ماہانہ بجٹ پر اثرانداز ہوتا ہے۔ سستے سام سنگ ماڈلز سے لے کر درمیانی رینج کے ژیومی اور انفینکس فونز تک، تمام ڈیوائسز میں استعمال ہونے والے پرزے اب مہنگے داموں بن رہے ہیں۔ پاکستان میں فون درآمد کرنے والے تاجروں نے خبردار کیا ہے کہ مینوفیکچرنگ کی یہ بڑھتی ہوئی لاگت جلد ہی مقامی مارکیٹ تک پہنچ جائے گی۔ اگر آپ نے اپنے بچوں کی آن لائن کلاسز یا روزمرہ کے کام کے لیے نیا فون خریدنے کا ارادہ ملتوی کیا ہوا تھا، تو اب یہی تاخیر آپ کو چند ہزار روپے اضافی خرچ کروائے گی۔
عالمی چپس کا بحران پاکستان کو کیوں زیادہ متاثر کرتا ہے
پاکستان کی اسمارٹ فون مارکیٹ مکمل طور پر درآمدات پر منحصر ہے، چاہے فون تیار حالت میں آئیں یا اسلام آباد اور کراچی کے مقامی پلانٹس میں اسمبل کرنے کے لیے کٹس کی شکل میں لائے جائیں۔ جب عالمی منڈی میں سیمی کنڈکٹر ویفرز مہنگے ہوتے ہیں، تو مقامی اسمبلرز کے پاس اس اضافے کو برداشت کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
عالمی ٹیک کمپنیاں اسمارٹ فون پروسیسرز کے مقابلے میں ڈیٹا سسٹمز کے لیے مہنگے چپس کو ترجیح دے رہی ہیں۔ اس ترجیح کی وجہ سے عام بجٹ فونز کے لیے چپس کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے اوپر ڈالر کی اونچی اڑان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے بھاری ٹیکسز مل کر ہر نئی کھیپ کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیتے ہیں۔
آپ کی اگلی فون خریداری پر اس کا کیا اثر ہوگا
اگر آپ نیا ہینڈ سیٹ تلاش کر رہے ہیں، تو گزشتہ چند ہفتوں میں مارکیٹ کا حساب کتاب مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ برانڈ اور پی ٹی اے رجسٹریشن کی بنیاد پر روزمرہ استعمال کے عام فونز کی قیمتوں میں پانچ سے دس فیصد تک اضافے کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
مختلف بجٹ کیٹیگریز پر اس کے اثرات کچھ اس طرح ہوں گے:
- سستے فونز (30,000 روپے سے کم): کمپنیاں قیمتیں قابو میں رکھنے کے لیے ریم اور اسٹوریج جیسی خصوصیات میں کٹوتی کریں گی، لہذا کم پیسوں میں اب کم فیچرز ملیں گے۔
- مڈ رینج فونز (40,000 سے 80,000 روپے): اس زمرے میں سب سے زیادہ نقد اضافہ دیکھنے کو ملے گا، جو درمیانی طبقے کے خریداروں کے لیے مشکلات پیدا کرے گا۔
- پی ٹی اے ٹیکس: یاد رکھیں کہ پی ٹی اے کی آفیشل ڈیوٹی ڈالر کی قیمت کے حساب سے طئے ہوتی ہے، اس لیے بنیادی قیمت بڑھتے ہی رجسٹریشن فیس خود بخود اوپر چلی جاتی ہے۔
آپ کو اس صورتحال میں کیا کرنا چاہیے
گھبراہٹ میں آ کر یکدم خریداری نہ کریں، لیکن اگر آپ کا موجودہ فون بالکل جواب دے چکا ہے تو زیادہ دیر انتظار بھی نہ کریں۔ اگر آپ کی اسکرین ٹ ٹوٹ چکی ہے یا بیٹری لوڈشیڈنگ کے اوقات میں ساتھ نہیں دے رہی، تو نئی کھیپ مہنگے داموں آنے سے پہلے اپنی ضرورت کی ڈیوائس خرید لیں۔
غیر قانونی اسمگل شدہ سیٹس کے بجائے ہمیشہ مقامی وارنٹی والے فونز کو ترجیح دیں، خاص طور پر اس وقت جب پی ٹی اے غیر رجسٹرڈ آئی ایم ای آئی پر شکنجہ کس رہا ہے۔ اگر نیا برانڈڈ فون آپ کے بجٹ سے باہر ہو رہا ہے تو کسی اچھے اور معتبر ڈیلر سے استعمال شدہ معیاری فون دیکھ لیں جو مختصر چیکنگ وارنٹی فراہم کرتا ہو۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
آنے والے چند ہفتوں میں اس بات پر گہری نظر رکھیں کہ مقامی اسمبلرز اپنی نئی پرائس لسٹس کیسے جاری کرتے ہیں۔ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے نرخوں کا جائزہ لیتے رہیں، کیونکہ پاکستانی روپے کی ذرا سی گراوٹ بھی اس چپ بحران کے اثرات کو فوری طور پر دو آتشہ کر دے گی۔ بڑے برانڈز عام طور پر ہر مہینے کے شروع میں قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کرتے ہیں، اس لیے آپ کا مقامی مارکیٹ ڈیلر اس معاملے میں بہترین اشارہ ثابت ہوگا۔
