جدید بندرگاہیں تجارت کے فروغ کے لیے ناگزیر ہیں، یہ بات سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے اتوار کے روز لاہور میں کہی۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اپنی سمندری تنصیبات کو عالمی معیار کے مطابق جدید بنائیں۔

جدید بندرگاہیں تجارت کے فروغ کے لیے ناگزیر کیوں ہیں؟

افتخار علی ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ہماری اہم بندرگاہوں، خاص طور پر کراچی اور پورٹ قاسم، کا ملک بھر میں قائم خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کے ساتھ مربوط نہ ہونا برآمد کنندگان کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

  • بندرگاہوں کی کارکردگی میں بہتری سے جہازوں کے قیام کا وقت کم ہوگا۔
  • مربوط لاجسٹکس سے مقامی مینوفیکچررز کے لیے کاروبار کی لاگت میں کمی آئے گی۔
  • بہتر انفراسٹرکچر سے اقتصادی زونز میں غیر ملکی سرمایہ کاری راغب ہوگی۔

بندرگاہی آپریشنز کو اقتصادی زونز کی ضروریات سے ہم آہنگ کر کے ٹرانزٹ کے وقت کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ بہتری ٹیکسٹائل، زراعت اور سرجیکل آلات جیسے شعبوں کے لیے انتہائی اہم ہے، جہاں مسابقتی قیمتوں کا انحصار اکثر لاجسٹکس اخراجات پر ہوتا ہے۔

لاجسٹکس انفراسٹرکچر کا مستقبل

افتخار ملک نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بندرگاہوں کو خودکار ٹرمینل مینجمنٹ سسٹمز اور کسٹم کلیئرنس کے جدید پروٹوکولز سے لیس کرے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ خطے کے دیگر ممالک تیزی سے اپنی سمندری تنصیبات کو جدید بنا رہے ہیں، اور اگر پاکستان نے پرانے نظام پر انحصار جاری رکھا تو ہم عالمی تجارت میں پیچھے رہ جائیں گے۔

عام پاکستانی تاجر کے لیے ان اقدامات کا مطلب خام مال کی بروقت دستیابی اور برآمدات کی ترسیل میں تیزی ہے۔ حکومت کو ایسی پالیسیاں بنانی چاہئیں جس میں اقتصادی زونز بندرگاہوں کے توسیع شدہ حصوں کے طور پر کام کریں، تاکہ دفتری پیچیدگیوں کو ختم کیا جا سکے۔

آئندہ کے اقدامات

کاروباری حلقے اب وزارتِ بحری امور کی جانب سے انفراسٹرکچر اپ گریڈ کے روڈ میپ کے منتظر ہیں۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ آئندہ بجٹ کے فیصلوں اور اقتصادی زونز کے لیے مراعات پر نظر رکھیں، کیونکہ یہ حکومتی سنجیدگی کا پیمانہ ہوں گے۔ اگر آپ برآمدی شعبے سے وابستہ ہیں، تو وزارتِ تجارت کی ویب سائٹ پر لاجسٹکس سپورٹ کے حوالے سے آنے والی نئی پالیسیوں کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں۔