بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے واضح طور پر پانچ اگست 2019 کے مقبوضہ جموں و کشمیر کے غیر قانونی اقدامات کو دو قومی نظریے کے خاتمے سے تعبیر کرتے ہوئے ایک خطرناک نظریاتی پیغام جاری کیا ہے۔ انتہا پسند ہندوتوا رہنما شیاما پرساد مکھرجی کے نظریات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مودی نے دعویٰ کیا کہ مکھرجی نے جو سوچا تھا، وہ انہوں نے اقتدار میں آکر پورا کر دیا۔
پاکستان کے عوام اور مبصرین کے لیے یہ بیان اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ نئی دہلی کی قیادت مقبوضہ وادی میں محض انتظامی تبدیلیاں نہیں چاہتی، بلکہ اس کا بنیادی ہدف پاکستان کی نظریاتی بنیاد کو کمزور کرنا ہے۔ اسلام آباد ہمیشہ سے کہتا آیا ہے کہ پانچ اگست کا محاصرہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو دبانے اور خطے کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ اب خود بھارتی وزیراعظم کی زبان سے اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ اس اقدام کا مقصد تقسیم ہند کے بنیادی نظریے کو چیلنج کرنا ہے۔
ہندوتوا سوچ اور شیاما پرساد مکھرجی کا ایجنڈا
شیاما پرساد مکھرجی بھارتیہ جن سنگھ کے بانی تھے، جو موجودہ حکمران جماعت بی جے پی کی مادر تنظیم ہے۔ مکھرجی نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی اور کشمیر کی نیم خودمختاری کے سخت مخالف تھے۔ مودی کی جانب سے ان کی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کا فخر سے اعلان اس بات کا غماز ہے کہ بھارتیہ جناتا پارٹی خطے میں آر ایس ایس کے اسی پرانے ایجنڈے پر کاربند ہے جو پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔
خطے کے امن پر پڑنے والے اثرات
- سفارتی محاذ آرائی میں تیزی: اسلام آباد میں وزارت خارجہ کی جانب سے اس اشتعال انگیز بیان پر شدید ردعمل کی توقع ہے کیونکہ یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
- آبادیاتی تبدیلیوں کا تسلسل: کشمیری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ 2019 کے بعد سے وادی میں غیر ریاستی باشندوں کو ڈومیسائل دینے کا مقصد مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔
- مذاکرات کے تمام دروازے بند: اس قسم کی جارحانہ بیان بازی سے دونوں ملکوں کے درمیان کسی بھی قسم کے منصفانہ مذاکرات کا امکان مزید معدوم ہو گیا ہے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
قارئین کو چاہیے کہ وہ دفتر خارجہ کے آئندہ کے بیانات اور پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے فیصلوں پر نظر رکھیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کی آواز بلند کرنے والی تنظیموں کے ردعمل کا بھی مشاہدہ کریں تاکہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کا درست ادراک کیا جا سکے۔
