بھارتی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں پر رواں سال 74 کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوئے ہیں۔ یہ تفصیلات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اپوزیشن کی جانب سے حکومتی اخراجات اور ملکی صورتحال پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں پر اخراجات کی تفصیل
وزیر مملکت برائے امور خارجہ پویترا مارگریٹا نے پارلیمنٹ میں تحریری جواب جمع کرایا جس میں ان اخراجات کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے جولائی 2026 تک وزیر اعظم مودی کے غیر ملکی دوروں پر مجموعی طور پر 550 کروڑ روپے سے زائد کی خطیر رقم خرچ کی گئی ہے۔ یہ اخراجات بھارت کی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی مصروفیات کے حوالے سے جاری بحث کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔
پارلیمنٹ میں ہنگامہ اور اپوزیشن کے مطالبات
اخراجات کے انکشاف کے ساتھ ہی بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان میں اپوزیشن اتحاد 'انڈیا' نے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے جنتر منتر کے قریب طلبہ پر ہونے والی پولیس کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ:
- وزیر داخلہ امت شاہ ایوان میں آ کر طلبہ پر پولیس تشدد کا جواب دیں۔
- وزیر اعظم نریندر مودی طلبہ سے باقاعدہ معافی مانگیں۔
- رام مندر میں چندہ چوری کے معاملے پر حکومت وضاحت کرے۔
سپریم کورٹ کا اہم مشاہدہ
اس کشیدہ صورتحال کے دوران بھارتی سپریم کورٹ نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔ عدالت نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ ایک جمہوری معاشرے میں پرامن مارچ اور مظاہروں کے دوران سیکورٹی فورسز کو انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ عدالت نے زور دیا کہ پولیس کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
آئندہ کا منظرنامہ
سیاسی مبصرین کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا حکومت اپوزیشن کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے وزیر داخلہ کو ایوان میں بیان دینے کے لیے بھیجے گی یا نہیں۔ اخراجات کی یہ تفصیلات آنے والے دنوں میں سیاسی بحث کا مرکز بنی رہیں گی، خاص طور پر جب عوامی پیسے کے استعمال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
