آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ایک غیر معمولی بیان میں اعتراف کیا ہے کہ موہن بھاگوت جنریشن زیڈ کے حوالے سے جو شکایات سامنے لائے ہیں، وہ درست ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ہندوستان کے تعلیمی نظام میں بہت کچھ ہونا چاہیے تھا جو آج تک نہیں ہو سکا۔
موہن بھاگوت جنریشن زیڈ اور تعلیمی نظام کا بحران
ایک حالیہ نشست کے دوران موہن بھاگوت نے یہ تسلیم کرکے سب کو حیران کر دیا کہ موجودہ تعلیمی نظام نوجوانوں کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی نسل کا یہ شکوہ بجا ہے کہ انہیں وہ کچھ نہیں سکھایا گیا جس کی انہیں عملی زندگی میں ضرورت ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کے نوجوان روایتی تعلیمی ڈھانچے اور جدید معیشت کے درمیان بڑھتے ہوئے خلیج پر آواز اٹھا رہے ہیں۔
بزرگوں کی روایت اور نوجوانوں کی سوچ
بھاگوت نے اپنے دور کا موازنہ آج کے دور سے کرتے ہوئے کہا کہ ان کے زمانے میں بزرگوں کی بات کو حرفِ آخر سمجھا جاتا تھا اور اسے بغیر کسی سوال کے قبول کر لیا جاتا تھا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ آج کی نسل اس روایت کو بدل چکی ہے اور وہ ہر بات پر دلیل اور منطق کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کی عکاس ہے کہ اب نوجوانوں کو محض روایتی اقدار کے نام پر خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔
- نوجوانوں کا تعلیمی نظام کے بارے میں موقف درست ہے۔
- روایتی تعلیمی ڈھانچہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
- بزرگوں کی بات کو بلا چوں چراں ماننے کا دور ختم ہو چکا ہے۔
مستقبل کے اثرات
پاکستان اور بھارت جیسے ممالک میں جہاں تعلیمی نظام پر ہمیشہ سوالات اٹھتے رہے ہیں، ایک بڑے مذہبی و سیاسی رہنما کا یہ اعتراف اہمیت کا حامل ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب طاقتور حلقے بھی نوجوانوں کی ناراضگی کو نظر انداز کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ بیان محض ایک سیاسی بیان بازی تک محدود رہے گا یا اس سے تعلیمی نصاب میں کوئی ٹھوس تبدیلی لائی جائے گی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر پالیسی سازوں نے نوجوانوں کی ان شکایات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو سماجی خلیج مزید گہری ہو جائے گی۔ قارئین کو چاہیے کہ وہ آنے والے وقت میں دیکھیں کہ کیا تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے کوئی عملی قدم اٹھایا جاتا ہے یا یہ صرف ایک وقتی اعتراف ہے۔
