وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں ٹریفک کے شدید دباؤ کو کم کرنے کے لیے دو نئے انڈر پاسز بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے اسلام آباد میں کیپیتال ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ہیڈ کوارٹر میں ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ دارالحکومت کے اہم چوراہوں پر روزانہ سفر کرنے والے شہریوں کو رش کے اوقات میں شدید ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑਦਾ ہے، جس کے پیش نظر بنیادی ڈھانچے کی بہتری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
سی ڈی اے ہیڈ کوارٹر کا اجلاس اور منصوبے کا دائرہ کار
نئے انڈر پاسز کی تعمیر کا فیصلہ سی ڈی اے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے ایک تفصیلی جائزہ اجلاس کے دوران کیا گیا۔ محسن نقوی نے متعلقہ انجینئرنگ ونگز اور میونسپل محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبے کی منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے مراحل کو تیز کیا جائے۔ حکام نے ان اہم مقامات کا جائزہ لیا جہاں حالیہ برسوں میں تجارتی سرگرمیوں اور آبادی بڑھنے کی وجہ سے ٹریفک کا دباؤ کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ سی ڈی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ منصوبے کے نقشے فائنل کرے اور بغیر کسی تاخیر کے کام شروع کرنے کے لیے انجینئرنگ ٹیمیں تعینات کرے۔
اسلام آباد کے مسافروں پر متوقع اثرات
اسلام آباد کے اہم تجارتی مراکز اور مرکزی شاہراہوں کے ارد گرد ٹریفک کے مسائل نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ انڈر پاسز کی تکمیل کے بعد شہر بھر میں سفر کرنے والی ہزاروں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو سگنل فری کوریڈورز میسر آئیں گے۔ اگر آپ اکثر رہائشی سیکٹرز اور کاروباری مراکز جیسے بلیو एरिया یا سرکاری دفاتر کے درمیان سفر کرتے ہیں، تو یہ نئے ترقیاتی کام آپ کے روزانہ کے سفر کے وقت میں نمایاں کمی لائیں گے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
سی ڈی اے کی جانب سے آئندہ نوٹیفیکیشنز پر نظر رکھیں جن میں تعمیراتی مقامات، پاکستانی روپے (روپے) میں منظور شدہ بجٹ اور منصوبے کی ٹائم لائنز بتائی جائیں گی۔ میونسپل اتھارٹی کی طرف سے آنے والے ہفتوں میں باضابطہ ٹینڈرز اور ٹھیکیداروں کی بولی کی تفصیلات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ کام شروع ہونے سے پہلے سڑکوں پر ٹریفک متبادل پلان کا اعلان بھی کیا جائے گا۔
