وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بدھ کے روز اسلام آباد میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کو باضابطہ طور پر مشورہ دیں گے کہ تمام وفاقی وزارتوں کی کارکردگی کا کڑے پیمانے پر جائزہ لیا جائے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے وفاقی کابینہ کا ایک اہم اجلاس بلائے جانے میں صرف ایک دن باقی تھا۔ وفاقی دارالحکومت میں سیاسی اور انتظامیحلقوں کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا وزیراعظم اس تجویز کو باقاعدہ ایجنڈے کا حصہ بناتے ہیں یا نہیں۔
کارکردگی کے جائزے کی فوری ضرورت کیوں ہے؟
پاکستان بھر کے عام شہریوں کو طویل عرصے سے سرکاری دفاتر، محکموں اور بیوروکریسی کی سست روی اور سرخ فیتے کی روایت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مہنگائی اور مالی مشکلات کے اس دور میں جب عوام ٹیکس ادا کر رہے ہیں، وزارتوں کی جانب سے ناقص کارکردگی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وزیر داخلہ کی طرف سے تمام وزارتوں کا احتساب کرنے کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت پر گورننس بہتر کرنے کا شدید عوامی دباؤ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ کے اس اجلاس میں ملک کی مجموعی انتظامی صورتحال، معاشی اصلاحات اور سرکاری محکموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیے جانے کا امکان ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر وزارتوں کی کارکردگی کو جانچنے کا کوئی شفاف نظام وضع کیا جائے تو اس سے سرکاری امور میں بہتری آ سکتی ہے۔
مجوزہ جائزے کے اہم نکات
اگرچہ اس پورے عمل کا باقاعدہ لائحہ عمل وزیراعظم سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کیا جائے گا، تاہم متوقع جائزے میں مندرجہ ذیل امور پر خاص توجہ دیے جانے کا امکان ہے:
- عوامی فلاحی منصوبوں کی بروقت تکمیل
- وزارتوں کے اندر بجٹ کا درست استعمال اور مالی شفافیت
- عوامی شکایات کا ازالہ اور پارلیمانی سوالات کے جوابات میں تیزی
- وفاقی اور صوبائی محکموں کے درمیان بہتر آہنگی
قارئین کے لیے اگلا قدم کیا ہونا چاہیے؟
ایک عام شہری یا کاروباری شخصیت کے طور پر جو سرکاری محکموں اور قوانین سے واسطہ رکھتی ہے، آپ کو اسلام آباد سے آنے والی ان پالیسی خبروں پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر آپ کو کسی بھی وفاقی ادارے، لائسنسنگ اتھارٹی یا یوٹیلیٹی محکمے سے کام میں تاخیر کا سامنا ہے تو متعلقہ فورمز پر اپنی آواز بلند کریں تاکہ پالیسی سازوں تک اصل صورتحال پہنچ سکے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
آئندہ چند دنوں میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ اجلاس کے فیصلوں پر کڑی نظر رکھیے، کیونکہ اجلاس کے بعد سرکاری ترجمان کی طرف سے اہم پالیسی اعانات متوقع ہیں۔ اگر حکومت تمام وزارتوں کے لیے کوئی باضابطہ مانیٹرنگ سسٹم یا کارکردگی کے اہداف طے کرتی ہے، تو اس سے آنے والے مہینوں میں حکومتی کارکردگی میں نمایاں فرق پڑ سکتا ہے۔
