وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس اور چیف کمشنر کی جانب سے پریڈ کے دوران روایتی شاہی بگی کے استعمال کے معاملے پر کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ اقدام "مناسب نہیں تھا" تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر دونوں اعلیٰ افسران کو اکیلا ذمہ دار قرار دینا کسی بھی طرح درست نہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والی اس تقریب کے دوران اعلیٰ ترین سول اور پولیس حکام کی جانب سے روایتی سواری کا استعمال سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید تنقید کی زد میں آ گیا تھا۔
محسن نقوی کا موقف ہے کہ سرکاری تقریبات میں روایتی پروٹوکول اور پرانی روایات کا عمل دخل طویل عرصے سے چلا آرہا ہے، اس لیے اس تمام واقعے کی ذمہ داری صرف آئی جی اور چیف کمشنر پر ڈال دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک کے عام شہری مہنگائی، بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں، سرکاری افسران کی طرف سے اس قسم کے شاہی انداز عوام کو سخت ناگوار گزرے ہیں۔
شاہی سواری کے تنازع کی تفصیلات
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب اسلام آباد کی ایک سرکاری پریڈ کے آغاز پر پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے سربراہان نے روایتی بگھی کا استعمال کیا۔ عوام نے اس عمل کو کلاسک نوآبادیاتی دور کی یادگار قرار دیتے ہوئے ٹیکس دہندگان کے پیسوں کے زیاں سے تعبیر کیا۔ سوشل میڈیا پر اس بگی کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد شہریوں کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا۔
اگرچہ وزیر داخلہ نے عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ بگی کا استعمال غیر مناسب تھا، لیکن انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ فیصلے اکثر روایتی پروٹوکول کے تحت کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود شہریوں اور مبصرین کا اصرار ہے کہ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر عوامی احساسات کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔
عوامی ردعمل اور آئندہ کا لائحہ عمل
اس واقعے کے بعد سے حکومتی اخراجات اور افسر شاہی کے پروٹوکول پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ تمام سرکاری تقریبات میں کفایت شعاری کو فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو کم کیا جا سکے۔
اس معاملے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- تقریب کا پس منظر: اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک رسمی پریڈ۔
- مرکزی کردار: آئی جی اسلام آباد پولیس اور چیف کمشنر۔
- بنیادی تنازع: روایتی شاہی بگی کا استعمال جسے عوام نے غیر ضروری شاہ خرچی قرار دیا۔
- سرکاری موقف: محسن نقوی کا کہنا ہے کہ یہ مناسب نہیں تھا لیکن دونوں افسران کو تنہا قصواروار ٹھہرانا ٹھیک نہیں۔
آئندہ دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا وزارت داخلہ اس قسم کے شاہانہ پروٹوکول کو محدود کرنے کے لیے کوئی نئے احکامات جاری کرتی ہے یا نہیں۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ دارالحکومت کی انتظامیہ کے آئندہ فیصلوں اور ایس او پیز پر نظر رکھیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ حکومت عوامی تنقید سے کیا سبق سیکھتی ہے۔
