وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور ایئرپورٹ پر امیگریشن کا عمل تیز کرنے کے لیے حکام کو سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔ 14 اپریل 2026 کو کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کے بعد، وزیر داخلہ نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ کیا تاکہ مسافروں کو درپیش مسائل کا براہِ راست جائزہ لیا جا سکے۔

لاہور ایئرپورٹ پر امیگریشن کا عمل بہتر بنانا

اپنے دورے کے دوران وزیر داخلہ نے ایئرپورٹ کے عملے سے مسافروں کو درپیش مشکلات کے بارے میں استفسار کیا۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ کاؤنٹرز پر عملے کی کمی اور ناقص انتظام کی وجہ سے مسافروں کو گھنٹوں قطاروں میں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ محسن نقوی نے واضح طور پر حکم دیا ہے کہ تمام امیگریشن کاؤنٹرز کو ہر حال میں فعال رکھا جائے تاکہ مسافروں کا رش کم ہو سکے۔

  • رش کے اوقات میں تمام کاؤنٹرز پر عملے کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔
  • ایف آئی اے اور ایئرپورٹ انتظامیہ کے درمیان رابطے کو بہتر بنایا جائے۔
  • مسافروں کے فیڈ بیک کی بنیاد پر انتظامی نقائص کو دور کیا جائے۔

مسافروں کے لیے سہولت کیوں ضروری ہے؟

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور کاروباری افراد کی جانب سے ایئرپورٹ پر طویل انتظار کے حوالے سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ وزیر داخلہ کی جانب سے تمام کاؤنٹرز کھلے رکھنے کی ہدایت کا مقصد امیگریشن کے عمل کو تیز کرنا ہے، خاص طور پر ان اوقات میں جب پروازوں کا رش زیادہ ہوتا ہے۔ یہ اقدام وفاقی زیرِ انتظام سہولیات کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ایک کوشش ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ لاہور ایئرپورٹ سے سفر کر رہے ہیں، تو یقینی بنائیں کہ آپ کے سفری دستاویزات مکمل ہوں تاکہ سیکنڈری چیکنگ کی وجہ سے آپ کا وقت ضائع نہ ہو۔ آپ سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) کی آفیشل ویب سائٹ سے پروازوں اور ایئرپورٹ سروسز کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو غیر ضروری تاخیر کا سامنا ہو، تو موقع پر موجود ڈیوٹی آفیسر کو شکایت درج کروائیں۔

آگے کیا ہوگا؟

آنے والے دن یہ ثابت کریں گے کہ آیا ایف آئی اے ان ہدایات پر مستقل عمل درآمد کر پاتی ہے یا نہیں۔ مسافروں کو چاہیے کہ وہ دیکھیں کہ کیا ان احکامات کے بعد واقعی انتظار کے وقت میں کمی آئی ہے۔ توقع ہے کہ حکومت اپریل 2026 کے آخر تک ان اقدامات کی افادیت کا جائزہ لے گی تاکہ کراچی اور اسلام آباد کے ایئرپورٹس پر بھی اسی طرح کے اقدامات کیے جا سکیں۔