وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان میں نئے صوبے بنانے کے معاملے پر قومی اتفاق رائے قائم کریں، انہوں نے تنبیہ کی کہ ملک کا موجودہ حکمرانی اور انتظامی نظام معاشی اور سیاسی دباؤ کے باعث مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
پاکستان اکانومک سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے موقف اختیار کیا کہ پاکستان اب اپنے پرانے اور تمرکز پسند نظام کو مزید نہیں چلا سکتا، جبکہ ملک کو بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے، بھاری مقروضیت اور عوامی خدمات کی فراہمی میں شدید ناکامی کا سامنا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ وہ پارٹی اختلافات سے بالاتر ہو کر ملک کے دیرینہ انتظامی اور معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک میز پر بیٹھیں۔
محسن نقوی موجودہ حکمرانی کے نظام کو ناکام کیوں سمجھتے ہیں؟
وزیر داخلہ نے سمٹ کے شرکا کو بتایا کہ پاکستان کا موجودہ سیاسی و انتظامی فریم ورک اب بنیادی قومی چیلنجز حل کرنے یا شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ دہائیوں کی انتظامی تمرکز پسندی نے تمام فیصلے لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ جیسے صوبائی دارالحکومتوں تک محدود کر دیے ہیں، جس کی وجہ سے دور دراز کے اضلاع شدید محرومی کا شکار ہیں۔
سیاسی جماعتیں بنیادی اصلاحات کرنے کے بجائے مسلسل سیاسی تصادم میں الجھی ہوئی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک چھوٹے اور فعال انتظامی یونٹ بنانے کے لیے صوبائی حد بندیوں میں تبدیلی جیسی بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، تب تک بین الاقوامی مالیاتی اداروں (آئی ایم ایف) سے ملنے والے پیکجز یا ایف بی آر کی ٹیکس مہمات سے پائیدار معاشی استحکام حاصل نہیں ہو سکتا۔
پرانی صوبائی حد بندیوں کا معاشی نقصان
پاکستان کا چار صوبائی انتظامی فریم ورک دہائیوں پہلے طے کیا گیا تھا، جبکہ اب ملک کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ جنوبی پنجاب، شمالی خیبر پختونخوا اور اندرون سندھ جیسے علاقوں کو شدید انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جہاں مقامی تاجروں اور شہریوں کو معمولی سرکاری کاموں کے لیے بھی سینکڑوں کلومیٹر سفر کر کے صوبائی دارالحکومتوں جانا پڑتا ہے۔
اس نظام کا مالیاتی نقصان انتہائی سنگین ہے۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی حکومت کے جمع شدہ ٹیکسوں کا 57 فیصد سے زائد حصہ صوبوں کو منتقل کیا جاتا ہے۔ تاہم، ان فنڈز کا بڑا حصہ مقامی ترقی، صحت اور تعلیم پر خرچ ہونے کے بجائے صوبائی سیکرٹریٹ اور انتظامی اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، چاروں صوبوں میں مقامی حکومتوں کا نظام مالیاتی طور پر مفلوج ہے کیونکہ صوبائی حکومتیں بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز دینے سے گریز کرتی ہیں۔
انتظامی اصلاحات اور نئے صوبے آپ کے بجٹ پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں؟
بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، سکھر اور ہزارہ جیسے ثانوی شہروں کے رہائشیوں اور چھوٹے تاجروں کے لیے انتظامی تمرکز ایک غیر محسوس ٹیکس کی مانند ہے۔ جب مقامی حکمرانی ناکام ہوتی ہے تو شہریوں کو اپنی جیب سے بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے:
- بلدیاتی اخراجات میں اضافہ: بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث شہریوں کو پانی کے ٹینکرز، نجی سیکیورٹی اور سولر یا جنریٹر کے بیک اپ پر ماہانہ ہزاروں روپے اضافی خرچ کرنا پڑتے ہیں۔
- کاروباری دشواریاں: چھوٹے تاجروں کو کاروباری پرمٹ، این او سی اور لائسنس کے حصول کے لیے صوبائی دارالحکومتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں جس سے ان کے وقت اور پیسے کا ضیاع ہوتا ہے۔
- صحت اور تعلیم کے گرتے معیار: ضلع کی سطح پر سرکاری ہسپتالوں اور سکولوں کو فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے درمیانے طبقے کے خاندان مہنگے نجی ہسپتالوں اور سکولوں پر مجبور ہیں۔
چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے سے بجٹ کی درست تقسییم ممکن ہو گی اور مقامی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے براہ راست جوابدہ ہو گی۔
عام شہری اور تاجر اس وقت کیا کریں؟
اگرچہ آئینی تبدیلیوں کے لیے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، لیکن شہری اور تاجر اپنے طور پر یہ اقدامات کر سکتے ہیں:
- مقامی بلدیاتی اخراجات کا حساب رکھیں: اپنے گھر یا کاروبار کے ان اخراجات کا جائز لیں جو آپ کو بنیادی بلدیاتی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے نجی طور پر اٹھانے پڑتے ہیں۔
- علاقائی تجارتی چیمبرز سے رجوع کریں: اگر آپ ملتان، گوجرانوالہ یا حیدرآباد جیسے شہروں میں کاروبار چلاتے ہیں تو اپنی مقامی تجارتی تنظیموں کے ذریعے انتظامی اختیارات کی منتقلی کا مطالبہ اٹھائیں۔
- اپنے سیاسی نمائندوں سے سوال کریں: اگلے انتخابات سے قبل اپنے این اے اور ایم پی اے امیدواروں سے مقامی حکومتوں کے قیام اور انتظامی تقسیم کے بارے میں واضح موقف مانگیں۔
اسلام آباد میں آئندہ کیا ہونے جا رہا ہے؟
نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے آئین کے آرٹیکل 1 اور آرٹیکل 239 میں ترمیم کی ضرورت ہے جس کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ آنے والے مہینوں میں ان اہم امور پر نظر رکھیں:
- سربراہ اجلاس اور آل پارٹیز کانفرنس: دیکھیں کہ کیا حکومت پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم جیسی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ نئے صوبوں کے معاملے پر رسمی مذاکرات شروع کرتی ہے یا نہیں۔
- این ایف سی ایوارڈ پر بات چیت: وفاقی وزارت خزانہ اور صوبائی شعبہ ہائے خزانہ کے درمیان ٹیکسوں کی منتقلی کو مقامی حکومتوں کے قیام سے جوڑنے کی تجاویز کا جائزہ لیں۔
- بلدیاتی انتخابات سے متعلق قانون سازی: پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں طویل عرصے سے التوا کا شکار بلدیاتی انتخابات کے بارے میں عدالتوں اور اسمبلیوں کی کارروائی پر نظر رکھیں۔
