معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل نے بیان دیا ہے کہ جدید دور میں خواتین کا گھر میں کھانا پکانا چھوڑ دینا ازدواجی زندگی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ گھریلو معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اگر خواتین نے جدیدیت کے نام پر گھروں میں کھانا تیار کرنا چھوڑ دیا ہے تو یہ ایک غیر فطری رجحان ہے۔
لاہور، کراچی، اسلام آباد اور ملک بھر کے دیگر شہروں میں روایتی خاندانی اقدار کو ہمیشہ سے بہت اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ مولانا طارق جمیل نے کہا کہ گھریلو کھانوں کا کلچر خاندان کو جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور اس روایت سے دوری خاندانی نظم و نسق کو متاثر کر سکتی ہے۔
جدید گھرانوں میں بدلتے ہوئے رجحانات
شہروں میں بڑھتی ہوئی مصروفات اور فوڈ ڈیلیوری کی سہولیات نے روزمرہ کے معمولات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ بہت سے جوڑے اب گھر کے کھانے کے بجائے باہر کے کھانوں یا ڈیلیوری پر انحصار کرتے ہیں۔ روایتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی سے گھروں کی گرمی اور باہمی تعلقات کی مٹھاس کم ہو رہی ہے۔
اس بیان کے بعد سوشل میڈیا اور عام حلقوں میں بحث شروع ہو گئی ہے۔ روایتی اقدار کے حامیوں کا خیال ہے کہ گھر کا کھانا صحت اور خاندانی سکون دونوں کے لیے ضروری ہے۔ دوسری طرف، کام کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ زندگی اور گھر کی ذمہ داریوں کو بیک وقت سنبھالنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے سہولت کے ذرائع اپنانا مجبوری بن جاتا ہے۔
- پروفیشنل زندگی اور گھریلو ذمہ داریوں کا توازن
- فوڈ ڈیلیوری ایپس کا خاندانی صحت پر اثر
- بدلتے ہوئے سماجی رجحانات اور گھریلو ماحول
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ بھی ایک مصروف زندگی گزار رہے ہیں، تو اپنے شریکِ حیات کے ساتھ گھریلو امور پر کھل کر بات کریں۔ روزمرہ کے کھانوں یا کاموں کی وجہ سے تناؤ پیدا کرنے کے بجائے باہمی رضامندی سے ایسے معمولات اپنائیں جو آپ کے خاندان کے لیے موزوں ہوں۔ جدید سہولیات اور روایتی اقدار کے درمیان ایک معتدل راستہ تلاش کرنا ہی کامیاب ازدواجی زندگی کی ضمانت ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہے
آنے والے دنوں میں اس موضوع پر مزید سماجی مباحث اور مذہبی آراء سامنے آنے کی توقع ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ بدلتے ہوئے معاشی حالات اور شہری زندگی کے دباؤ کے پیشِ نظر پاکستانی خاندان اپنے معمولات کو کس طرح ڈھالتے ہیں۔
