بھارت بھر میں جولائی سے جاری مون سون کی تباہ کن بارشوں اور زمین دوز تودے گرنے کے واقعات میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد اپنے زیر آب آنے والے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ سرکاری حکام نے بدھ 6 اگست 2025 کو جاری کردہ اعداد و شمار میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں موسلاادھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔
آسام میں سب سے زیادہ جانی نقصان
اس جاری مون سون سیزن کے دوران شمال مشرقی ریاست آسام میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جہاں اکیلے آسام میں تقریباً 90 افراد لاجل بنے ہیں۔ دریاؤں میں طغیانی کے باعث کئی اضلاع میں حفاظتی بند ٹوٹ گئے ہیں، جس سے سڑکیں، پل اور زرعی زمینیں پانی میں بہہ گئی ہیں۔ مقامی انتظامیہ کو ان دور دراز علاقوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جہاں لوگ پینے کے صاف پانی اور بجلی سے محروم پھنسے ہوئے ہیں۔
آسام کے علاوہ دیگر پہاڑی علاقوں میں بھی شدید بارشوں کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے، جس کی وجہ سے اہم شاہہیں بند ہو چکی ہیں اور امدادی کارروائیاں متاثر ہوئی ہیں۔ ہزاروں بے گھر خاندان عکیلی ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
علاقائی موسمیاتی اثرات اور آئندہ کی صورتحال
اگرچہ جنوبی ایشیا میں مون سون کا سلسلہ ایک سالانہ موسمیاتی حقیقت ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بارشوں کے شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں خطے کی موسمی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ پورا خطہ اگست اور ستمبر کے دوران شدید مون سون کے اثرات کی زد میں ہے۔
اگر آپ کا پڑوسی ملک کے ساتھ کوئی کاروباری سلسلہ ہے یا آپ وہاں سفر کا ارادہ رکھتے ہیں، تو مقامی محکمہ موسمیات کی تازہ ترین ایڈوائزری پر ضرور نظر رکھیں۔ آنے والے دنوں میں خلیج بنگال میں بننے والے نئے موسمی دباؤ پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے جو خطے میں بارشوں کے سلسلے کو مزید طویل کر سکتا ہے۔
