آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ شدید مون سون بارشوں کے باعث کم از کم 13 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ 217 مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بارشوں کے اس سلسلے نے، جو 12 اگست 2026 کو اپنے عروج پر تھا، پہاڑی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کو جنم دیا ہے، جس سے متعدد رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔

اس انسانی بحران کے جواب میں، وزیراعظم شہباز شریف نے متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری مالی امداد اور ریلیف آپریشنز شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ وفاقی حکومت اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (SDMA) کے ساتھ مل کر شدید متاثرہ اضلاع میں ہنگامی سامان پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔

موجودہ صورتحال کے حوالے سے اہم ترین حقائق درج ذیل ہیں:

  • جانی نقصان: آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں چھتیں گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 13 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔
  • مالی نقصان: 217 مکانات کو جزوی یا مکمل طور پر نقصان پہنچا ہے۔
  • وزیراعظم کی ہدایت: جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے فوری مالی امداد کی منظوری۔
  • امدادی ادارے: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) اور SDMA ریسکیو آپریشنز کی نگرانی کر رہے ہیں۔
  • ہنگامی ہیلپ لائن: متاثرہ شہری کسی بھی ہنگامی صورتحال میں SDMA کے کنٹرول روم نمبر 921643-05822 یا قومی ایمرجنسی نمبر 1111 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

آزاد کشمیر میں مون سون بارشوں سے ہونے والی تباہی

آزاد کشمیر میں حالیہ مون سون بارشوں کے باعث وادیوں اور پہاڑی بستیوں میں شدید تباہی مچی ہے۔ تیز بارشوں کی وجہ سے ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ نے وادی نیلم روڈ اور وادی جہلم روڈ سمیت کئی اہم شاہراہوں کو بند کر دیا ہے، جس سے سینکڑوں سیاح اور مقامی لوگ محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

مظفرآباد، باغ اور راولاکوٹ کی مقامی انتظامیہ کے مطابق، زیادہ تر ہلاکتیں کچے مکانات کی چھتیں گرنے کی وجہ سے ہوئیں۔ لینڈ سلائیڈنگ سے مقامی لوگوں کے مویشی بھی بہہ گئے ہیں اور زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ دور دراز کے علاقوں سے رابطے بحال ہونے کے بعد نقصانات کے اعداد و شمار میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا فوری مالی امداد کا حکم

اس سانحے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ مل کر متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کریں۔ وزیراعظم نے تاکید کی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد کی فراہمی میں کسی قسم کی بیوروکریٹک تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

وفاقی ریلیف پیکج کے تحت، جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے (1,000,000 روپے) جبکہ جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہونے والے مکانات کے مالکان کو نقصان کی نوعیت کے حساب سے 1 لاکھ سے 5 لاکھ روپے تک کی مالی امداد دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، این ڈی ایم اے کو متاثرہ خاندانوں کے لیے راشن بیگز، واٹر پروف خیمے، کمبل اور طبی کٹس فوری فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متاثرہ خاندان مالی امداد کے لیے کیسے اپلائی کریں؟

اگر آپ کا مکان حالیہ بارشوں سے متاثر ہوا ہے یا خاندان کا کوئی رکن جاں بحق ہوا ہے، تو امداد کے حصول کے لیے درج ذیل طریقہ کار اپنائیں:

  1. مقامی پٹواری یا یونین کونسل کو اطلاع دیں: سب سے پہلے اپنے علاقے کے پٹواری یا یونین کونسل کے سیکرٹری کو نقصان کی اطلاع دیں تاکہ وہ ابتدائی سروے رپورٹ (نقصان کا تخمینہ) تیار کر سکیں۔
  2. اسسٹنٹ کمشنر (AC) آفس سے رابطہ کریں: اپنے تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں تحریری درخواست جمع کروائیں۔
  3. ضروری دستاویزات منسلک کریں: درخواست کے ساتھ اپنا شناختی کارڈ (CNIC)، تباہ شدہ مکان کی تصاویر، اور جانی نقصان کی صورت میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ ضرور منسلک کریں۔
  4. تصدیق کا عمل: انتظامیہ اور ایس ڈی ایم اے کی مشترکہ ٹیم موقع پر جا کر نقصان کی تصدیق کرے گی، جس کے بعد امدادی چیک جاری کر دیا جائے گا۔

موسم کی صورتحال اور احتیاطی تدابیر

محکمہ موسمیات (PMD) نے الرٹ جاری کیا ہے کہ بارشوں کا یہ سلسلہ اگلے 48 گھنٹوں تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ پہاڑی علاقوں، خصوصاً وادی نیلم، جہلم اور پونچھ میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مٹی کے تودے گرنے کے خطرے سے دوچار مقامات سے دور رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قریبی سرکاری عمارتوں یا محفوظ مقامات پر پناہ لیں۔