پاکستان بھر میں گھروں اور تجارتی اداروں کی جانب سے سোলার پینلز کے ساتھ بیٹریاں نصب کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے تاکہ بجلی کے غیر یقینی تعطل سے بچا جا سکے اور توانائی کے معاملے میں خود کفالت حاصل کی جا سکے۔
گزشتہ چند سالوں کے دوران ملک میں شمسی توانائی کا رجحان اس حد تک بڑھا کہ لاکھوں افراد نے اپنے گھروں کی چھتوں پر پی وی سسٹمز لگوا لیے۔ ابتدائی طور پر زیادہ تر لوگوں نے گرڈ ٹائیڈ سسٹمز کا انتخاب کیا جو دن کے وقت بننے والی اضافی بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کرتے تھے۔ تاہم، یوٹیلیٹی بلوں میں ہوشربا اضافے، گرڈ کی غیر مستحکم صورتحال اور طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے صارفین کی حکمت عملی بدل گئی ہے۔ اب لاہور، کراچی، اسلام آباد اور فیصل آباد سمیت ملک بھر کے شہری دن کے وقت بننے والی اضافی بجلی کو ضائع کرنے یا گرڈ کو بیچنے کے بجائے اپنے پاس محفوظ کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
پاکستان میں سولر سسٹم کا بدلتا ہوا رجحان
شمسی توانائی کے پراجیکٹس میں اضافے نے بیٹری اسٹوریج کی مارکیٹ کو بھی ایک نئی سمت دی ہے۔ جب نیپرا اور ڈسکوز کی جانب سے بجلی کے ٹیرف میں بار بار اضافے کیے گئے تو عام شہریوں اور صنعتکاروں کے لیے سولر پینلز مالی ضرورت بن گئے۔
تاہم، روایتی گرڈ ٹائیڈ سسٹمز کا ایک بڑا نقص یہ تھا کہ جب مین بجلی بند ہوتی تھی تو حفاظتی وجوہات کی بنا پر سولر انورٹر بھی کام کرنا چھوڑ دیتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ تیز دھوپ کے باوجود گھروں میں اندھیرا چھایا رہتا تھا۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اب خریدار عام انورٹرز کی بجائے ہائبرڈ انورٹرز اور لیتھیم آئن یا ٹیوبلر بیٹریوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔
بیٹریوں کی مانگ میں اضافے کی اہم وجوہات
توانائی کا ذخیرہ کرنا اب کوئی عیش و آرام کی چیز نہیں بلکہ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور خراب نظام سے بچنے کا ایک لازمی دفاعی ذریعہ بن چکا ہے۔ اس تبدیلی کی چند اہم وجوہات یہ ہیں:
- گرمیوں اور سردیوں میں اچانک ہونے والی لوڈشیڈنگ اور وولٹیج کے اتار چڑھاؤ سے تحفظ۔
- نیٹ میٹرنگ پالیسیوں میں تبدیلیوں اور یونٹس کی خریداری کے کم نرخوں کے مالی اثرات کو کم کرنا۔
- دن کے وقت پیدا ہونے والی اضافی بجلی کو رات کے استعمال کے لیے محفوظ کر کے ڈسکوز پر انحصار کم کرنا۔
- بجلی کی اچانک بندش اور واپسی پر گھریلو آلات اور قیمتی مشینری کو خراب ہونے سے بچانا۔
مارکیٹ کی حقیقتیں اور صارفین کا انتخاب
اگر آپ لاہور کے ہال روڈ یا کراچی کی بھتائی روڈ کی الیکٹرونکس مارکیٹوں کا دورہ کریں تو آپ کو ہائی کیپیسٹی بیٹریوں اور ہائبرڈ سسٹمز کی مانگ میں واضح اضافہ نظر آئے گا۔ لیتھیم آئن بیٹریاں اپنی لمبی عمارت، بہتر کارکردگی اور تیز چارجنگ کی وجہ سے مہنگی ہونے کے باوجود صارفین کی پہلی پسند بنتی جا رہی ہیں۔
مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین ابتدائی لاگت زیادہ ہونے کے باوجود بلا تعطل بجلی کے حصول کے لیے بیٹریوں پر سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہیں۔ پانچ کلوواٹ کے معیاری گھریلو سولر سیٹ اپ میں معیاری بیٹری کا اضافہ کل لاگت کو بڑھا دیتا ہے، لیکن صارفین اسے مستقبل کے مالی جھٹکوں کے خلاف ایک بہترین انشورنس سمجھتے ہیں۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ نیا سولر سسٹم لگوانے کا ارادہ رکھتے ہیں یا اپنے پرانے سیٹ اپ کو اپ گریڈ کرنا چاہتے ہیں، تو خریداری سے پہلے اپنی رات کی بجلی کی کھپت کا حساب ضرور لگائیں۔ کسی مستند اور تجربہ کار ٹیکنیشن سے مشورہ کریں تاکہ آپ اپنے بجٹ اور بجلی کی ضرورت کے مطابق بہترین ہائبرڈ انورٹر اور بیٹری کا انتخاب کر سکیں۔
توانائی کے شعبے میں آئندہ کن باتوں کا خیال رکھیں
وفاقی توانائی کے اداروں کی جانب سے بیٹری کے آلات پر ممکنہ ٹیکسز یا نیٹ میٹرنگ کی پالیسیوں میں مزید تبدیلیوں کے حوالے سے آنے والے اعلانات پر کڑی نظر رکھیں۔ یہ حکومتی فیصلے آپ کی ہائبرڈ سولر انویسٹمنٹ کے منافع بخش ہونے کی مدت پر براہ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
