منگل کی صبح انگلش چینل میں ایک انتہائی خطرناک واقعے کے دوران 170 سے زائد تارکین وطن کو بچا لیا گیا جب ان کی کشتی اچانک آگ کی لپیٹ میں آ گئی تھی۔ یہ تارکین وطن غیر قانونی طور پر انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کھلے سمندر میں ان کی کشتی کو حادثہ پیش آگیا۔

برطانوی اور فرانسیسی حکام کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں تمام مسافروں کو ڈوبنے یا شدید جھلسنے سے بچا لیا گیا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر انسانی اسمگلنگ کے اس خطرناک راستے اور وہاں سفر کرنے والے افراد کی جانوں کو لاحق شدید خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔

برطانوی حکومت کا سخت مؤقف

اس واقعے کے فوراً بعد برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے میں بچائے جانے والے تمام افراد کو واپس فرانس بھیج دیا جائے گا۔ لندن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی سمندری راستوں سے آنے والوں کو کسی صورت برطانیہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ انسانی اسمگلروں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رکھیں گے جو غریب اور لاچار افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر ان سے لاکھوں روپے کماتے ہیں۔ فرانسیسی اور برطانوی بارڈر فورسز اس وقت اس پورے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ کشتی میں آگ کیسے لگی۔

تارکین وطن کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات

انگلش چینل کا یہ سمندری راستہ دنیا کے مصروف ترین اور خطرناک ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ ہر سال ہزاروں افراد بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی کشتیوں کے ذریعے فرانس سے برطانیہ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

زیادہ تر کشتیاں اوور لوڈڈ ہوتی ہیں اور ان میں لائف جیکٹس یا حفاظتی سامان کی شدید کمی ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں ایسے کئی حادثات رونما ہو چکے ہیں جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں، لیکن اس کے باوجود انسانی اسمگلنگ کا یہ نیٹ ورک بدستور فعال ہے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

آنے والے دنوں میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ فرانسیسی ساحل پر سیکیورٹی کو مزید کیسے سخت کیا جائے تاکہ ایسی خستہ حال کشتیوں کو سمندر میں جانے سے روکا جا سکے۔ برطانوی اور یورپی یونین کے حکام اس بحران پر قابو پانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر زور دے رہے ہیں۔

اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا اس قسم کے غیر قانونی اور جان لیوا راستوں کے بارے میں سوچ رہا ہے، تو یہ جان لیں کہ اس میں موت کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ قانونی اور محفوظ ذرائع ہی بیرون ملک سفر کا واحد قابلِ عمل راستہ ہیں۔