متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین نے پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر (پی او جے کے) میں جاری کشیدہ صورتحال پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ریاستی اداروں پر انسانی حقوق کی سنگین خلافورزیوں کا الزام عائد کیا ہے اور عوام سے مظاہرین کی بھرپور حمایت کی اپیل کی ہے۔ لندن سے جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے 5 اگست 2026 کو کہا کہ خطے میں بنیادی حقوق اور مہنگائی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

الطاف حسین کا مظاہرین پر کریک ڈاؤن کی شدید مذمت

برطانیہ سے جاری کردہ اپنے ویڈیو پیغام میں الطاف حسین نے کہا کہ پرامن مظاہرین کے خلاف بلاجواز چھاپے، گرفتاریاں اور طاقت کا استعمال بنیادی آئینی حقوق کی پامالی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اس خطے میں بجلی کے بھاری بلوں، ٹیکسوں اور آٹے کی قیمتوں کے خلاف پچھلے کچھ عرصے سے ہڑتالیں اور دھرنے جاری ہیں۔ رہنما نے زور دیا کہ ریاستی مشینری کو شہریوں پر تشدد کرنے کے بجائے ان کے معاشی اور بنیادی مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

  • بیان کی تاریخ: 5 اگست 2026
  • مقام: لندن، برطانیہ
  • متاثرہ خطہ: پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر (پی او جے کے)
  • مرکزی نکتہ: مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور مظاہرین پر تشدد

بین الاقوامی اداروں اور سول سوسائٹی سے نوٹس لینے کا مطالبہ

اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ پی او جے کے میں مبینہ زیادتیوں کا فوری نوٹس لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی زبان بندی کرنے سے مسائل مزید گھمبیر ہوں گے۔ عام پاکستانی شہریوں کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا وفاقی حکومت اور مقامی انتظامیہ مظاہرین کے مطالبات تسلیم کرتی ہے یا کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

پاکستانی قارئین کے لیے آگے کیا دیکھنا ضروری ہے

اگر آپ ملک کی سیاسی صورتحال پر نظر رکھتے ہیں تو آپ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ اسلام آباد اور مظفرآباد کی انتظامیہ اس بیان اور احتجاج کے حوالے سے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کے نرخوں اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں پر عوامی ردعمل اور تجارتی یونینز کے اگلے فیصلوں پر بھی گہری نظر رکھیں۔