بالی ووڈ کی معروف اداکارہ مرونل ٹھاکر نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اپنی مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ مرونل ٹھاکر ڈیپ فیک ویڈیوز اور جعلی تصاویر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والے ان جعل ساز کلپس نے اداکارہ کے پرستاروں کو شدید غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے بعد انہوں نے ایسی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ پاکستان سمیت پورے خطے میں معروف شخصیات کو نشانہ بنانے والے ان ڈیپ فیک اسکینڈلز نے ڈیجیٹل سیکیورٹی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔

تفریح کی دنیا میں اے آئی ڈیپ فیک کا بڑھتا ہوا خطرہ

ڈیجیٹل میڈیا پر جعلی ویڈیوز کا بے لگام پھیلاؤ صرف اداکاروں کے لیے ہی نہیں بلکہ عام شہریوں کی پرائیویسی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ جدید ترین اے آئی سسٹمز نے شرپسند عناصر کے لیے یہ انتہائی آسان بنا دیا ہے کہ وہ کسی بھی معروف شخص کا چہرہ کسی غلط یا فحش مواد پر فِٹ کر دیں۔ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک میں سوشل میڈیا صارفین ایسی ویڈیوز کو بغیر سوچے سمجھے ری شیئر کر دیتے ہیں، جس سے یہ مواد منٹوں میں وائرل ہو جاتا ہے۔

ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین اتنے تیز نہیں ہیں کہ وہ گمنام اکاؤنٹس کے پیچھے چھپے مجرموں کو فوری طور پر دبوچ سکیں۔ اگرچہ بڑی ویب سائٹس نے رپورٹنگ کے نظام بہتر کیے ہیں، لیکن متاثرہ شخص کو اپنا مواد ڈیلیٹ کروانے کے لیے طویل قانونی جنگ لڑنی پڑتی ہے۔

اداکاراؤں اور ڈیجیٹل کریٹرز کا جوابی لائحہ عمل

شوبز سے وابستہ افراد اب اس قسم کے ڈیجیٹل فراڈ کے خلاف خاموش رہنے کے بجائے سائبر کرائم حکام سے باضابطہ رجوع کر رہے ہیں۔ متاثرہ فنکارہ کی قانونی ٹیم نے ایسے تمام پیجز اور چینلز کو نوٹس جاری کرنے کی تیاری کر لی ہے جو یہ مواد پھیلا رہے ہیں۔

  • متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فوری طور پر مواد کو رپورٹ کرنا
  • سائبر کرائم کے ماہر وکلاء کے ذریعے قانونی چارہ جوئی شروع کرنا
  • مداحوں کو خبردار کرنے کے لیے عوامی بیانات جاری کرنا
  • حکومتوں سے اے آئی کے غلط استعمال پر سخت قوانین کا مطالبہ کرنا

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کو انٹرنیٹ پر کوئی ایسی مشکوک یا جعلی ویڈیو نظر آئے تو اسے ہرگز لائک یا شیئر نہ کریں، کیونکہ آپ کا ردعمل اس مواد کو مزید پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔ اس کے بجائے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے اپنے رپورٹنگ ٹول کا استعمال کرتے ہوئے اس پوسٹ کی شکایت کریں۔ پاکستان میں رہنے والے افراد ایف آئی اے (FIA) سائبر کرائم ونگ کے آن لائن پورٹل یا ہیلپ لائن پر بھی ایسی جعلسازی کی اطلاع دے سکتے ہیں۔

آگے کیا متوقع ہے؟

قانون سازوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اے آئی سے بننے والے جعلی مواد کی روک تھام کے لیے مزید سخت ضابطے نافذ کریں۔ آنے والے مہینوں میں ٹیکنالوجی کمپنیاں ڈیجیٹل واٹر مارکس اور جدید فلٹرز متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہیں تاکہ اس قسم کے سائبر فراڈ کا راستہ روکا جا سکے۔