سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے 14 اگست 2026 کو کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) میں آزادی کے دن کے جھنڈا بندی کے موقع پر نسلا ٹاور حادثے کے متاثرین کے لیے 50 کروڑ روپے اور کاروباری برادری کے لیے 2 ارب روپے کے فوری ریلیف کا اعلان کیا ہے۔
یہ اعلان کراچی کے آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع KCCI کے سرخ اینٹوں والے تاریخی عمارت میں کیا گیا جہاں آزادی کے 79 ویں یوم آزادی کے موقع پر جھنڈا بندی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا۔
- نسلا ٹاور متاثرین کے لیے 50 کروڑ روپے کا اعلان، جس کی تقسیم 30 دنوں کے اندر شروع ہو جائے گی۔
- کاروباری برادری کے لیے 2 ارب روپے کا ریلیف پیکج، جس میں ایس ایم ایز کو ٹیکس ریبیٹس اور یوٹیلیٹی بلوں پر سبسڈی شامل ہے۔
- KCCI کے صدر مرتضیٰ وہاب نے اس اقدام کو کراچی کی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا۔
- تقریب میں کاروباری رہنماؤں، سیاسی شخصیات اور شہری سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
کیوں نسلا ٹاور متاثرین کو 50 کروڑ روپے دیے گئے؟
نسلا ٹاور کا حادثہ مارچ 2026 میں پیش آیا تھا جس میں کم از کم 25 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس حادثے کے بعد متاثرین کے خاندانوں نے حکومت سے معاوضے کا مطالبہ کرتے ہوئے سندھ اسمبلی کے باہر اور حادثہ والے مقام پر احتجاج بھی کیے تھے۔ وزیر اعلیٰ کا یہ اعلان ایک ہائی لیول انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے بعد آیا ہے جس نے فوری مالی امداد کا مشورہ دیا تھا۔
- اہلیت: متوفی افراد کے خاندانوں اور شدید زخمی افراد (جنہیں طبی رپورٹس کی ضرورت ہوگی) کو شامل کیا جائے گا۔
- عمل: درخواستیں سندھ زکات اینڈ عشر ڈپارٹمنٹ کی ویب سائٹ www.szud.pk سے 20 اگست 2026 سے جمع کرانا شروع ہوں گی۔
- آخری تاریخ: 15 ستمبر 2026 تک درخواستیں جمع کرانا لازمی ہے۔
- رقم: ہر متوفی کے خاندان کو 20 لاکھ روپے، شدید زخمیوں کو 10 لاکھ روپے اور معمولی زخمیوں کو 5 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
2 ارب روپے کا کاروباری ریلیف پیکج: کیا شامل ہے؟
یہ ریلیف پیکج ایس ایم ایز کو مہنگائی، بجلی کے بلوں اور درآمدی ڈیوٹی کے بوجھ سے نجات دلانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اہم اقدامات میں شامل ہیں:
- بجلی کے بلوں پر 50 فیصد سبسڈی ایس ایم ایز کے لیے جو ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں (6 ماہ کے لیے لاگو)۔
- ٹیکس ریبیٹس صنعتی زونز میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے، جس میں مالی سال 2026 کے لیے 10 فیصد ایڈوانس ٹیکس میں کمی شامل ہے۔
- کراچی کے صنعتی زونز میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے 50 لاکھ روپے تک کے قرضوں کی گارنٹی سندھ سمال انڈسٹریز کارپوریشن (SSIC) کے ذریعے۔
- کراچی کے سدر اور آئی آئی چندریگر روڈ کے تجارتی علاقوں میں کرایہ میں رعایت۔
KCCI کے صدر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ یہ ریلیف کراچی کے تاجر اور مینوفیکچررز کے لیے ایک lifeline ثابت ہوگا۔ انھوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "یہ اقدام کراچی کی معیشت کو مستحکم کرنے میں مددگار ہوگا۔"
سیاسی پس منظر: مراد کا آزادی کے دن کا پیغام
وزیر اعلیٰ کے اعلان کا موقع آزادی کے دن کی تقریر تھی جہاں انھوں نے سندھ کی معاشی چیلنجز اور حکومت کی طرف سے ان کے حل پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے صوبے میں صنعتی بحالی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے عزم کو بھی دہرایا۔
- تنقید: حزب اختلاف کی جماعتوں، بشمول پاکستان تحریک انصاف (PTI)، نے پیپلز پارٹی پر مقامی انتخابات سے قبل ریلیف کے اعلانات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔
- تائید: کاروباری حلقوں جیسے آل کراچی ٹریڈرز ایسوسی ایشن نے ان اقدامات کو "وقت پر اور ضروری" قرار دیا ہے۔
آپ کو اگلے کیا کرنا چاہیے
اگر آپ نسلا ٹاور حادثے سے متاثر ہوئے ہیں یا سندھ میں کاروبار چلاتے ہیں تو یہ اقدامات کریں:
نسلا ٹاور متاثرین کے لیے:
1. دستاویزات جمع کریں: متوفی افراد کے خاندانوں کے لیے موت کا سرٹیفکیٹ اور زخمی افراد کے لیے طبی رپورٹس۔
2. آن لائن درخواست دیں: 20 اگست 2026 سے www.szud.pk پر درخواست جمع کرانا شروع کریں۔
3. آخری تاریخ: 15 ستمبر 2026 تک درخواستیں جمع کرانا لازمی ہے۔
4. پیروی کریں: درخواست کی حیثیت کو 15 دن بعد اسی پورٹل سے چیک کریں۔
کاروباری ریلیف کے لیے:
1. بجلی کی سبسڈی: اپنے مقامی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی (K-Electric یا SEPCO) سے رابطہ کریں اور صارف نمبر اور کاروباری رجسٹریشن کے ساتھ درخواست دیں۔
2. ٹیکس ریبیٹس: مالی سال 2026 کے لیے وفاقی محصولات بورڈ (FBR) میں 30 ستمبر 2026 تک اپنا سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانا یقینی بنائیں۔
3. قرض کی گارنٹیز: SSIC کی ویب سائٹ https://ssic.pakistan.gov.pk سے 50 لاکھ روپے تک کے قرضے حاصل کرنے کے لیے درخواست دیں۔
4. کرایہ میں رعایت: کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) کو تجارتی کرایہ داری کے ثبوت کے ساتھ رسمی درخواست جمع کرائیں۔
اگلے اقدامات پر نظر رکھیں
- نسلا ٹاور معاوضے کی تقسیم: سندھ حکومت نے ادائیگیوں کے لیے 30 دن کا وقت مقرر کیا ہے۔ تاخیر سے نئے احتجاجوں کا خطرہ ہے۔
- کاروباری ریلیف کی عملدرآمد: KCCI اور SSIC اس 6 ماہ کی بجلی کی سبسڈی اور ٹیکس ریبیٹس کی نگرانی کریں گے۔ کسی بھی بدانتظامی سے احتجاج کا سامنا ہو سکتا ہے۔
- مقامی انتخابات: ریلیف کے اعلانات اکثر انتخابات سے پہلے آتے ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے فنڈز کے آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
- K-Electric ٹیرف ہائیک: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) بجلی کے بلوں میں 12 فیصد اضافے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ کاروباریوں کو اس کی منظوری کے بعد زیادہ اخراجات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے اعلانات کراچی کے معاشی بحران میں ایک نایاب براہ راست مداخلت کا اشارہ دیتے ہیں، لیکن اصل آزمائش یہ ہوگی کہ حکومت اپنے وعدوں پر کتنی جلد اور شفاف طریقے سے عمل کرتی ہے۔ فی الحال، کاروباری برادری اور نسلا ٹاور متاثرین کو امید ہے—اگر حکومت اپنے وعدوں پر قائم رہی۔
مدد کے لیے اہم رابطے:
- نسلا ٹاور معاوضہ: سندھ زکات اینڈ عشر ڈپارٹمنٹ (021-99201234)
- کاروباری ریلیف: KCCI ہیلپ لائن (021-111-222-777) یا SSIC (021-99205678)
