قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے ملک کے بڑھتے ہوئے پاکستان تجارتی خسارے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے برآمدات کو فروغ دینے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ بدھ کے روز منعقدہ اجلاس میں کمیٹی نے ٹیرف اصلاحات، تجارتی اداروں کی کارکردگی اور ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ (EDF) کے استعمال کا تفصیلی جائزہ لیا۔

پاکستان تجارتی خسارے پر قابو پانے کی حکمت عملی

کمیٹی کے ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ معاشی حالات میں برآمدات میں اضافہ ہی واحد حل ہے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے وسائل کو شفاف طریقے سے ان شعبوں میں خرچ کیا جائے جو بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسی پالیسیاں بنائیں جن سے درآمدات پر انحصار کم ہو اور مقامی صنعت کو تقویت ملے۔

ٹیرف اصلاحات اور برآمد کنندگان کے لیے اقدامات

کمیٹی نے ٹیرف کے ڈھانچے میں تبدیلی کو صنعتی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔ حکومت کا مقصد ہے کہ خام مال کی درآمد پر لاگت کو کم کیا جائے تاکہ مقامی مصنوعات عالمی منڈی میں سستی اور معیاری ثابت ہوں۔ اجلاس میں جن اہم نکات پر اتفاق کیا گیا ان میں شامل ہیں:

  • ٹیرف کے نظام میں ایسی تبدیلیاں لانا جس سے پیداواری لاگت کم ہو۔
  • تجارتی اداروں کی کارکردگی کی کڑی نگرانی اور احتساب کا نظام۔
  • چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لیے برآمدی رکاوٹوں کا خاتمہ۔
  • ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کو ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمد کے لیے مختص کرنا۔

برآمد کنندگان کے لیے اگلا قدم کیا ہے؟

اگر کمیٹی کی یہ سفارشات وزارت تجارت کی جانب سے عملی طور پر نافذ کر دی جاتی ہیں، تو برآمد کنندگان کے لیے طریقہ کار میں آسانی پیدا ہوگی۔ کاروباری افراد کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ وزارت تجارت کی ویب سائٹ commerce.gov.pk پر نظر رکھیں تاکہ نئی تجارتی پالیسیوں اور مراعات سے بروقت فائدہ اٹھایا جا سکے۔ آنے والے ہفتوں میں وزارت کی جانب سے ان اصلاحات پر پیش رفت رپورٹ متوقع ہے۔