چین کے ساتھ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ قومی معیشت کے لیے ایک بڑی تشویش بن چکا ہے، جس پر بدھ 22 مئی 2024 کو قومی اسمبلی کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے موجودہ آزاد تجارتی معاہدوں (FTAs) کا جامع جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کے دوران، کمیٹی کے اراکین نے تجارتی حجم میں مسلسل عدم توازن پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے نشاندہی کی کہ پاکستان چین سے بھاری مقدار میں مشینری، خام مال اور صارفین کی اشیاء درآمد کر رہا ہے، جبکہ برآمدات کا حجم انتہائی کم ہے، جس سے قومی خزانے اور روپے کی قدر پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔
چین کے ساتھ تجارتی خسارے کے اثرات
برسوں سے اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان معاشی تعلقات میں چینی درآمدات کا غلبہ رہا ہے۔ اگرچہ سی پیک (CPEC) نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مدد کی ہے، لیکن کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی فریم ورک مقامی صنعت کاروں کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔
- کمیٹی نے نشاندہی کی کہ موجودہ ایف ٹی اے ڈھانچہ چینی مصنوعات کو مقامی منڈیوں میں سستے داموں فروخت کرنے کی اجازت دیتا ہے، جس سے مقامی صنعتیں متاثر ہو رہی ہیں۔
- حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تجارتی توازن کی تفصیلی رپورٹ پیش کریں اور ان شعبوں کی نشاندہی کریں جہاں مقامی صنعتیں مشکلات کا شکار ہیں۔
- کمیٹی کا ماننا ہے کہ اگر ٹیرف ڈھانچے پر نظر ثانی نہ کی گئی تو تجارتی خلیج مزید وسیع ہو جائے گی، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر منفی اثر پڑے گا۔
مقامی صنعت پر معاشی بوجھ
یہ تجارتی خسارہ صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستانی معیشت کے لیے ایک ساختی چیلنج ہے۔ مقامی تاجروں کا طویل عرصے سے مطالبہ ہے کہ وہ چینی کمپنیوں کی سبسڈی والی پیداواری لاگت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اس مسابقت کی وجہ سے کئی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں (SMEs) بند ہو چکی ہیں۔
ارکانِ اسمبلی کا کہنا ہے کہ حکومت کو صرف درآمدات پر انحصار کرنے کے بجائے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ منصوبوں پر توجہ دینی چاہیے تاکہ پاکستانی مصنوعات چینی صارفین تک آسانی سے پہنچ سکیں۔
مستقبل کا لائحہ عمل
اگر آپ تاجر یا سرمایہ کار ہیں تو ان پارلیمانی مذاکرات کے نتائج آنے والے مہینوں میں درآمدی ڈیوٹی اور ریگولیٹری فریم ورک میں تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ کمیٹی نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ برآمدات بڑھانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر جامع رپورٹ جمع کرائیں۔
درآمدی ٹیرف اور برآمدی مراعات کے بارے میں تازہ ترین معلومات کے لیے وزارتِ تجارت کی ویب سائٹ commerce.gov.pk دیکھتے رہیں۔ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہے، لہذا آنے والے مالی سال میں لگژری اشیاء کی درآمدات پر سخت نگرانی اور درآمدی متبادل پالیسیوں پر زور متوقع ہے۔
