بہاولنگر کے ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقدہ کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے انتظامی کرپشن، سرکاری کاموں میں تاخیر اور اراضی فراڈ کے خلاف اپنی شکایات براہ راست نیب حکام کے سامنے پیش کیں۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد کی واضح ہدایات کی روشنی میں اس کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا تاکہ عام شہری کسی وساطت کے بغیر انسداد بدعنوانی کے اداروں تک اپنی تحریری شکایات پہنچا سکیں۔
- مقام: ڈپٹی کمشنر آفس، بہاولنگر
- اہم حکام: ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب ملتان محمد رمضان، ڈپٹی کمشنر سید محمد عباس شاہ
- ہدایت کار: چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد
- بنیادی موضوعات: محکمہ مال میں بدعنوانی، غیر قانونی ہاؤسنگ سکیمیں، بلدیاتی اداروں میں رشوت ستانی، سرکاری منصوبوں میں تاخیر
- ابتدائی کارروائی: منتخب شکایات پر موقع پر ہی تصدیق کے احکامات جاری
ڈی سی آفس بہاولنگر میں براہ راست عوامی سماعت
اس کھلی کچہری کی صدارت ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب ملتان محمد رمضان اور ڈپٹی کمشنر بہاولنگر سید محمد عباس شاہ نے مشترکہ طور پر کی۔ بہاولنگر، چشتیاں، فورٹ عباس، منچن آباد اور ہارون آباد سے بڑی تعداد میں شہری کرپٹ عناصر اور نجی رہائشی سکیموں کے خلاف ثبوت لے کر ڈی سی آفس پہنچے۔
نیب حکام نے شہریوں کے بیانات قلمبند کیے اور ان کی فراہم کردہ دستاویزات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر سید محمد عباس شاہ نے تمام ضلعی محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ نیب کی ابتدائی تحقیقات میں مکمل تعاون فراہم کریں۔
نیب ملتان کے نمائندوں کے مطابق، کھلی کچہری کے اس سلسلے کا مقصد جنوبی پنجاب کے دور دراز اضلاع کے عوام اور نیب کے درمیان فاصلوں کو ختم کرنا ہے۔ ضلعی سطح پر سماعت کے انعقاد سے شہریوں کو شکایت درج کرانے کے لیے ملتان یا لاہور کے بار بار چکر لگانے کے اخراجات سے نجات ملتی ہے۔
شہریوں کی جانب سے اٹھائے گئے اہم مسائل
کھلی کچہری میں انے والی زیادہ تر شکایات اراضی کے ریوینیو ریکارڈ میں ہیرا پھیری، انتقالِ زمین میں تاخیر، غیر قانونی نجی ہاؤسنگ سکیموں اور بلدیاتی دفاتر میں رشوت ستانی سے متعلق تھیں۔ متعدد سائلین نے الزام عائد کیا کہ پٹواری اور لینڈ ریکارڈ سنٹرز کے اہلکار انتقالات منظور کرنے کے لیے بلاوجہ تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں۔
ضلع بہاولنگر میں قائم غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے متاثرین نے بھی اپنی فائلیں نیب حکام کے سامنے رکھیں۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ ڈویلپرز نے پلاٹوں کے نام پر کروڑوں روپے وصول کیے لیکن سالہا سال گزرنے کے باوجود نہ تو الاٹمنٹ لیٹر دیے گئے اور نہ ہی زمین کا قبضہ۔
اس کے علاوہ مقامی ترقیاتی فنڈز میں خرد برد، بلدیاتی خدمات میں بوگس ٹھیکوں اور سرکاری اراضی پر ناجائز قبضوں سے متعلق شکایات بھی نیب کے سامنے پیش کی گئیں۔
نیب میں شکایت درج کرانے کا طریقہ کار
اگر آپ بہاولنگر میں ہونے والی کھلی کچہری میں شرکت نہیں کر سکے، تو بھی آپ نیب ملتان میں اپنی سرکاری شکایت جمع کرا سکتے ہیں۔ نیب کے پاس شکایت درج کرانے کے لیے درج ذیل طریقہ کار اختیار کریں:
- تحریری درخواست: ڈائریکٹر جنرل نیب ملتان کے نام ایک واضح اور تفصیلی درخواست لکھیں جس میں کرپشن یا فراڈ کی مکمل تفصیلات درج ہوں۔
- ضروری ثبوت: اپنے قومی شناختی کارڈ (CNIC) کی کاپی، رقم کی وصولی کی رسیدیں، رجسٹری، معاہدے یا سرکاری خط و کتابت کے کاغذات ساتھ لف کریں۔
- بیان حلفی: ایک تصدیق شدہ بیان حلفی شامل کریں جس میں تحریر ہو کہ فراہم کردہ معلومات بالکل درست ہیں۔
- ڈاک کے ذریعے ارسال: اپنی مکمل فائل بذریعہ رجسٹرڈ ڈاک یا کورئیر نیب ریجنل آفس، بہادر پور، نزد ناردرن بائی پاس، ملتان کے پتے پر بھیجیں۔
- آن لائن شکایت: نیب کی سرکاری ویب سائٹ nab.gov.pk پر جا کر بھی ڈیجیٹل شکایت درج کی جا سکتی ہے۔
کھلی کچہری کے بعد کا عمل
بہاولنگر کھلی کچہری کے بعد نیب ملتان کا کمپلینٹ ویریفکیشن سیل تمام موصول شدہ درخواستوں کی چھان بین کرے گا۔ جن شکایات کے ساتھ قابلِ اعتماد ثبوت موجود ہوں گے، ان کی باقاعدہ 'کمپلینٹ ویریفکیشن' شروع کی جائے گی جس کے بعد انکوائری اور ضرورت پڑنے پر انویسٹی گیشن کا مرحلہ آئے گا۔
ڈپٹی کمشنر سید محمد عباس شاہ نے ضلعی محکموں کے سربراہان کو پابند کیا ہے کہ نیب کی جانب سے مطلوبہ ریکارڈ فوری طور پر فراہم کیا جائے۔ جن شہریوں نے غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف درخواستیں جمع کرائی ہیں، انہیں اگلے 14 سے 30 دنوں کے اندر نیب ملتان ہیڈکوارٹر سے ابتدائی تصدیقی کارروائی کے لیے رابطہ کیا جائے گا۔
