نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی نادرا فیک ٹریکنگ آئی ڈی (جعلی ٹریکنگ کوڈز) اور دھوکہ دہی پر مبنی پوسٹوں کے خلاف شہریوں کے لیے اہم تنبیہی ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر متحرک جعل ساز اور غیر قانونی صفحات شناختی کارڈز کی تیز رفتار تیاری اور صورتحال کی تصدیق کے نام پر جعلی ٹریکنگ نمبرز شائع کر رہے ہیں۔

اہم حقائق پر ایک نظر

- جعلسازی کی تنبیہ: فیس بک، ایکس اور واٹس ایپ پر شناختی کارڈ کے اندراج اور صورتحال معلوم کرنے کے جعلی دعوے گردش کر رہے ہیں۔
- راز داری کا اصول: نادرا شہریوں کے ٹریکنگ نمبرز، ذاتی معلومات یا پراسیسنگ سٹیٹس کبھی بھی عوامی سوشل میڈیا گروپس پر شائع نہیں کرتا۔
- آفیشل پورٹل: شہری اپنے درخواست کی صورتحال صرف نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ یا آفیشل پورٹل (pakid.nadra.gov.pk) سے ہی محفوظ طریقے سے چیک کر سکتے ہیں۔
- سرکاری ایس ایم ایس سروس: نادرا سے موصول ہونے والے تمام تصدیقی اور تعاقبی پیغامات صرف آفیشل شارٹ کوڈ 8583 سے بھیجے جاتے ہیں۔
- آفیشل ہیلپ لائن: کسی بھی قسم کی رہنمائی یا شکایت کے لیے نادرا ہیلپ لائن 1777 (موبائل) یا 100-786-111-051 (لینڈ لائن) پر رابطہ کریں۔

سوشل میڈیا پر جعلی ٹریکنگ آئی ڈی کے ذریعے دھوکہ دہی کا طریقہ

فیس بک، ٹک ٹاک اور واٹس ایپ کے مختلف گروپس میں غیر مجاز افراد کی جانب سے مختلف ہندسوں پر مشتمل جعلی ٹریکنگ کوڈز کی فہرستیں شیئر کی جا رہی ہیں۔ ان پوسٹس میں سمارٹ کارڈ، شناختی کارڈ کی تجدید، فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) اور منسوخی سرٹیفکیٹ کی جلد فراہمی کے جھوٹے وعدے کیے جاتے ہیں۔

نادرا ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے یہ تمام ٹریکنگ نمبرز مکمل طور پر من گھڑت اور جعلی ہیں۔ دھوکے باز ان پوسٹس کے ذریعے عام شہریوں کو ورغلا کر ان کا اصل شناختی کارڈ نمبر، والدہ کا نام، خاندانی پس منظر اور دیگر حساس معلومات حاصل کرتے ہیں، یا ایزی پیسہ اور جاز کیش کے ذریعے غیر قانونی فیس وصول کرتے ہیں۔

کسی غیر معروف شخص یا غیر سرکاری پوسٹ پر اپنے ذاتی کوائف درج کرنا شناختی چوری، غیر قانونی سموں کے اجراء اور مالیاتی دھوکہ دہی کا سبب بن سکتا ہے۔

نادرا درخواست کی تصدیق کا محفوظ طریقہ

نادرا نے واضح کیا ہے کہ اصلی ٹریکنگ آئی ڈی ایک رازدارانہ کوڈ ہوتا ہے جو نادرا رجسٹریشن سینٹر (NRC) میں درخواست جمع کرواتے وقت یا پاک آئی ڈی ایپ پر پروسیسنگ کے دوران شہری کو جاری کیا جاتا ہے۔ یہ نمبر یا تو کاغذی رسیو ڈرافٹ پر درج ہوتا ہے یا پھر صرف 8583 سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجا جاتا ہے۔

درخواست کی پروسیسنگ معلوم کرنے کے لیے صرف درج ذیل ذرائع استعمال کریں:
- پاک آئی ڈی موبائل ایپلیکیشن: گوگل پلے سٹور اور ایپل ایپ سٹور سے پاک آئی ڈی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور بائیو میٹرک تصدیق کے بعد اپنے لاگ ان سے سٹیٹس دیکھیں۔
- آفیشل ویب پورٹل: نادرا کی سرکاری ویب سائٹ `pakid.nadra.gov.pk` پر جا کر اپنا لاگ ان درج کریں۔
- آفیشل ایس ایم ایس سروس: اپنا سرکاری ٹریکنگ نمبر لکھ کر 8583 پر بھیجیں۔

نادرا حکام نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ نادرا نے کسی ایجنٹ، تیسرے فریق یا سوشل میڈیا ایڈمنسٹریٹر کو شناختی کارڈ پروسیس کرنے یا سٹیٹس چیک کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیا ہے۔

سائبر فراڈ سے بچاؤ کے لیے ضروری اقدامات

شہری اپنے ذاتی کوائف کو محفوظ رکھنے کے لیے مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کریں:
- ذاتی معلومات کا تحفظ: کسی بھی سوشل میڈیا پوسٹ، کمنٹ یا غیر متعلقہ واٹس ایپ گروپ میں اپنا شناختی کارڈ نمبر، موبائل نمبر یا خاندان کی تفصیلات شیئر نہ کریں۔
- صرف سرکاری فیزی ادائیگی: نادرا کی تمام فیسیں صرف رجسٹریشن سینٹرز کے کاؤنٹر، پاک آئی ڈی ایپ/پورٹل یا ای سہولت فرنچائز پر ہی ادا کی جا سکتی ہیں۔
- جعلی صفحات کی رپورٹ کریں: ایسے کسی بھی جعلی پیج کی سوشل میڈیا پر رپورٹ کریں اور مالیاتی دھوکہ دہی کی صورت میں ایف آئی اے (FIA) سائبر کرائم ونگ کی ہیلپ لائن 1991 پر شکایت درج کروائیں۔
- ملازمت اور ایجنٹس سے ہوشیار رہیں: نادرا میں پروسیسنگ کے لیے کسی ایجنٹ کو پیسے نہ دیں۔

اگلا لائحہ عمل

نادرا اس وقت پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ساتھ مل کر جعلی صفحات کو بلاک کرنے اور اس فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی میں مصروف ہے۔

شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ نادرا کی خدمات، فیزی شیڈول اور ضوابط کے حوالے سے تازہ ترین معلومات کے لیے صرف نادرا کے تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس (X پر NadraPak@) اور سرکاری ویب سائٹ پر ہی اتکاء کریں۔