نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے لیے نادرا سروسز ان یو اے ای کو مزید بہتر اور تیز تر بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو شناختی دستاویزات، خاص طور پر نائیکوپ (NICOP) کے حصول اور تجدید میں درپیش مشکلات کا خاتمہ کرنا ہے۔

نادرا سروسز ان یو اے ای کے اہم پہلو

متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے لیے اب شناختی دستاویزات کی تجدید اور تبدیلی کا عمل پہلے سے زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ نادرا کی جانب سے متعارف کرائی گئی اس سہولت میں درج ذیل خدمات شامل ہیں:

  • نائیکوپ کی تجدید کے عمل میں تیزی۔
  • پہلی بار شناختی کارڈ بنوانے والوں کے لیے دستاویزات کی تصدیق کا آسان طریقہ کار۔
  • ڈیٹا میں تبدیلی (جیسے پتہ یا ازدواجی حیثیت) کے لیے خصوصی معاونت۔
  • ڈیجیٹل نظام کو بہتر بنانا تاکہ سفارت خانوں میں رش کو کم کیا جا سکے۔

تارکین وطن کے لیے اہمیت

ایک درست شناختی کارڈ نہ صرف بینکنگ اور جائیداد کے معاملات کے لیے ضروری ہے بلکہ پاکستان آمد و رفت کے لیے بھی اس کی موجودگی لازمی ہے۔ ماضی میں دستاویزات کی تجدید کے لیے طویل انتظار اور پیچیدہ عمل کی وجہ سے تارکین وطن کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ حکومتی سطح پر اس سہولت کی فراہمی سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنے ملکی ڈیٹا بیس سے جڑے رہنے میں مدد ملے گی۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں، تو کسی بھی مرکز پر جانے سے پہلے نادرا کی آفیشل ویب سائٹ پر اپنے دستاویزات کی حیثیت چیک کریں۔ اگرچہ بہت سے کام آن لائن ہو رہے ہیں، لیکن بائیو میٹرک تصدیق کے لیے سفارت خانے یا قونصل خانے کا دورہ ضروری ہو سکتا ہے۔

  1. نادرا کی آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں تاکہ معلوم کر سکیں کہ آپ کا کام آن لائن ہو سکتا ہے یا نہیں۔
  2. اپنے پاسپورٹ اور رہائشی ثبوت جیسے ضروری دستاویزات ساتھ رکھیں۔
  3. طویل قطاروں سے بچنے کے لیے آن لائن اپائنٹمنٹ ضرور بک کریں۔

مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟

نادرا کا نظام مسلسل اپ ڈیٹ ہو رہا ہے۔ آنے والے وقتوں میں موبائل رجسٹریشن یونٹس کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے، جو صنعتی علاقوں میں مقیم پاکستانیوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوں گے۔ ہمیشہ سرکاری چینلز ہی استعمال کریں تاکہ آپ کا نجی ڈیٹا محفوظ رہے۔