نادرا نے پاکستان کا پہلا کوڈ-بیسڈ قومی شناختی کارڈ متعارف کرا دیا ہے جو آپ کے ڈیٹا کو مائیکروچپ کی بجائے ایک محفوظ کوڈ میں محفوظ رکھتا ہے۔ یہ نئی کارڈ ایک ہزار روپے کی ہے، دس سال تک چلتی ہے اور بغیر انٹرنیٹ یا ریڈر کے استعمال کی جا سکتی ہے۔ فی الحال یہ کارڈ اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں جاری کی جا رہی ہے۔
- قیمت: ایک ہزار روپے (پرانے چپ کارڈ جتنا)
- م validity: دس سال
- ٹیکنالوجی: کوڈ بیسڈ، کوئی چپ نہیں
- آف لائن استعمال: ہاں (کوئی ریڈر یا انٹرنیٹ درکار نہیں)
- کہاں سے بنوائیں: تمام نادرا کے مراکز اور ای-سہولت مراکز سے
- بننے کا وقت: 10 سے 15 کام کاج کے دن
- سرکاری ویب سائٹ: https://www.nadra.gov.pk
نئی خصوصیات اور کمی
پرانے چپ کارڈ میں آپ کا بایومیٹریکل ڈیٹا اور معلومات ایک چھوٹے چپ میں محفوظ رہتی تھیں۔ نئی کوڈ بیسڈ کارڈ میں یہی ڈیٹا ایک محافظ کوڈ کی شکل میں کارڈ کے پیچھے چھپا دیا گیا ہے۔ نادرا کا دعویٰ ہے کہ یہ کوڈ چھیڑنا ناممکن ہے اور اسے عام اسمارٹ فون کیمرے یا نادرا کے منظور شدہ کوڈ ریڈر سے پڑھا جا سکتا ہے۔
- کوئی چپ نہیں، کوئی بیٹری نہیں: کارڈ کو چارج کرنے یا ریڈر کی ضرورت نہیں، اس لیے بجلی کی کٹوتی یا دور دراز علاقوں میں بھی کام کرتی ہے۔
- ڈیٹا ویسا ہی، نظر ویسا ہی: آپ کا نام، والد کا نام، قومی شناختی نمبر، تصویر اور انگلیوں کے نشان اب بھی موجود ہیں—صرف کوڈ کی شکل میں۔
- ختم ہونے کی تاریخ ویسی ہی: دونوں کارڈز دس سال بعد ختم ہو جاتے ہیں۔
جو چیز آپ کو نہیں ملے گی وہ ہے این ایف سی یا بلوٹوتھ کنٹیکٹ لیس ٹیکنالوجی۔ اگر آپ کو ڈیجیٹل ادائیگیوں یا ای-گیٹ تک رسائی کے لیے ان کی ضرورت ہے تو پھر بھی آپ کو پرانا چپ کارڈ رکھنا ہوگا یا الگ سے ای-آئی ڈی کے لیے درخواست دینی ہوگی۔
کون کوڈ کارڈ استعمال کرے اور کون انتظار کرے
یہ نئی کوڈ بیسڈ کارڈ تین گروہوں کے لیے بہتر ہے:
- دیہی اور کم آمدنی والے صارفین جو ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں بجلی یا انٹرنیٹ کی سہولت کم ہے۔
- طالب علم اور روزانہ مزدور جو کارڈ کھو دیتے ہیں یا خراب ہو جاتے ہیں اور سستے متبادل کی تلاش میں ہیں۔
- چھوٹے کاروباری مالکان جو بینکنگ یا یوٹیلیٹی کنکشنز کے لیے فوری اور آف لائن آئی ڈی چاہتے ہیں۔
اگر آپ کو یہ کارڈ استعمال نہیں کرنا چاہیے تو:
- آپ پہلے سے ہی چپ کارڈ کا استعمال کرتے ہیں تاکہ ہوائی اڈوں یا دفاتر میں ای-گیٹ تک رسائی حاصل کر سکیں۔
- آپ ڈیجیٹل ادائیگیوں (جیسے جاز کیش، ایزی پیسا وغیرہ) پر انحصار کرتے ہیں جن کے لیے این ایف سی درکار ہوتی ہے۔
- آپ اکثر غیر ملکی سفر کرتے ہیں جہاں چپ بیسڈ ای-پاسپورٹ یا ای-گیٹ معیاری ہیں۔
پرانے چپ کارڈ کے مقابلے میں کتنا بہتر ہے
| خصوصیت | نئی کوڈ کارڈ (ایک ہزار روپے) | پرانا چپ کارڈ (ایک ہزار روپے) |
|------------------------|-------------------------------|-------------------------------|
| آف لائن استعمال | ہاں | نہیں (چپ کو ریڈر چاہیے) |
| بیٹری/چارجنگ | نہیں | نہیں |
| این ایف سی/کنٹیکٹ لیس | نہیں | ہاں (منتخب ماڈلز پر) |
| تبدیل کرنے کی قیمت | ایک ہزار روپے | ایک ہزار روپے |
| بننے کا وقت | 10 سے 15 دن | 7 سے 10 دن |
| پائیداری | معیاری پلاسٹک | معیاری پلاسٹک |
درحقیقت، واحد اہم فرق آف لائن رسائی ہے۔ اگر آپ این ایف سی یا ای-گیٹ استعمال نہیں کرتے تو کوڈ کارڈ آپ کو کوئی اضافی فائدہ نہیں دے گا لیکن آپ کو وہی durability اور قیمت ملے گی۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
- اہلیت چیک کریں: آپ کے پاس پہلے سے ہی معتبر قومی شناختی کارڈ ہونا چاہیے (پرانا چپ کارڈ یا دستی). نئے درخواست دہندگان کو اب بھی چپ کارڈ دیا جائے گا۔
- نادرا کے دفتر جائیں: اپنا موجودہ قومی شناختی کارڈ، ایک تصویر اور ایک ہزار روپے لے کر جائیں۔
- 10 سے 15 دن انتظار کریں: جب کارڈ تیار ہو جائے گا تو آپ کو ایس ایم ایس آ جائے گا۔
- استعمال شروع کریں: کوئی اضافی مرحلہ درکار نہیں—اپنے پرانے کارڈ کی طرح ہی استعمال کریں۔
اگر آپ کا کوڈ کارڈ ضائع ہو جائے تو اس کی جگہ لینے کی قیمت اور وقت بھی ویسا ہی ہوگا: ایک ہزار روپے اور 10 سے 15 دن۔
آگے کیا توقع ہے
- نادرا کا اگلا اقدام: افواہیں ہیں کہ 2026 میں ایک ہائبرڈ کارڈ (چپ + کوڈ) متعارف کرایا جائے گا جو ان صارفین کے لیے ہوگا جو آف لائن اور کنٹیکٹ لیس دونوں خصوصیات چاہتے ہیں۔
- بینکنگ اور ٹیلی کام اپ ڈیٹس: جاز کیش اور ایزی پیسا نے ابھی تک تصدیق نہیں کی ہے کہ کیا وہ کوڈ کارڈ کو بایومیٹرک تصدیق کے لیے قبول کریں گے۔ توقع ہے کہ اگلے 30 دنوں میں سرکاری اعلامیہ آئے گا۔
- سیکیورٹی آڈٹ: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کوڈ کے انکرپشن کا جائزہ لے رہے ہیں۔ نتائج 30 ستمبر 2026 تک آجانے چاہئیں۔
آخری فیصلہ: کیا آپ کو تبدیل کرنا چاہیے؟
اگر آپ ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں بجلی کی کٹوتی عام ہے، آپ اکثر ایسے مقامات پر سفر کرتے ہیں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہے، یا آپ کو سستا اور سادہ متبادل کارڈ چاہیے تو نئی کوڈ بیسڈ آئی ڈی کارڈ ایک بہتر انتخاب ہے۔ یہ ویسی ہی قیمت پر آتی ہے، ویسا ہی وقت چلتی ہے اور آف لائن کام کرتی ہے—جو کہ پرانا چپ کارڈ کبھی نہیں کر سکتا تھا۔
اگر آپ پہلے سے ہی این ایف سی ادائیگیوں یا ای-گیٹ تک رسائی کے لیے انحصار کرتے ہیں تو پرانے چپ کارڈ کے ساتھ رہیں یہاں تک کہ نادرا ہائبرڈ ورژن جاری نہ کر دے۔ ورنہ، کوڈ کارڈ ایک کم خطرے والا اپ گریڈ ہے جو آپ کی شناخت کو ویسے ہی محفوظ رکھتا ہے—صرف طریقہ کار مختلف ہے۔
چاہے آپ تبدیل کریں یا نہ کریں، اپنا پرانا کارڈ محفوظ رکھیں جب تک کہ آپ کو یقین نہ ہو جائے کہ نئی کارڈ ہر جگہ قبول کی جا رہی ہے۔
درخواست کیسے کریں
- آن لائن چیک: نادرا کی ویب سائٹ پر جائیں اور اپنے دفتر جانے سے پہلے اپنی اہلیت چیک کریں۔
- دفاتر کا پتہ: اپنے قریبی نادرا ای-سہولت یا مرکزی دفتر کا پتہ यहاں سے معلوم کریں۔
- درکار دستاویزات: اصلی قومی شناختی کارڈ، ایک حالیہ پاسپورٹ سائز کی تصویر، ایک ہزار روپے فیس۔
- ہیلپ لائن: 051-111-786-100 (کارڈ کی حیثیت اور عمومی سوالات کے لیے).
نادرا نے ابھی تک کوئی آخری تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے، لیکن کوڈ کارڈ اب ڈیفالٹ آپشن بن چکا ہے جو اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں چل رہا ہے۔ دیگر شہروں میں یہ سہولت 31 دسمبر 2026 تک متعارف کرائی جائے گی۔
---
کیا آپ نے ابھی تک کوڈ کارڈ حاصل کر لیا ہے؟ اپنے تجربے کے بارے میں نیچے کمنٹس میں بتائیں۔
