امریکی خلائی ادارے ناسا نے بھارتی خلائی تحقیقی ادارے (اسرو) کو اپنے اہم ترین 'آرٹیمس مشن' میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ اس مشن کا بنیادی مقصد چاند پر انسانوں کی واپسی کو یقینی بنانا اور وہاں ایک مستقل اڈہ قائم کرنا ہے جہاں انسان طویل عرصے تک قیام کر سکیں۔

آرٹیمس مشن کی تفصیلات

ناسا کا آرٹیمس مشن محض چاند پر قدم رکھنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا ہدف چاند پر ایسی تنصیبات قائم کرنا ہے جو مستقبل میں انسانی رہائش گاہ بن سکیں۔ اس مقصد کے لیے ناسا چاند پر ایسے بیس بنانے کی تیاری کر رہا ہے جہاں انسان طویل عرصے تک مقیم رہ سکیں۔ اس سے پہلے ناسا مختلف قسم کے روور، خودکار روبوٹ اور دیگر جدید آلات چاند پر بھیجے گا تاکہ وہاں کے ماحول کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے اور تعمیراتی کاموں کا آغاز کیا جا سکے۔

بین الاقوامی تعاون کی اہمیت

بھارت کی جانب سے چندریان-3 کی کامیابی کے بعد، ناسا نے اسرو کو شراکت دار کے طور پر مدعو کیا ہے۔ یہ دعوت اس بات کی عکاس ہے کہ اب خلائی تحقیق میں بین الاقوامی اشتراک کا دور شروع ہو چکا ہے۔ اس شراکت داری سے دونوں ممالک کو خلائی ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے شعبوں میں ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا موقع ملے گا، جو کہ گہرے خلائی سفر (Deep Space) کے لیے انتہائی اہم ہے۔

چاند پر انسانی اڈے کی تیاری

آرٹیمس مشن کے تحت قائم ہونے والا اڈہ مستقبل میں مریخ تک پہنچنے کے لیے ایک گیٹ وے کا کام دے گا۔ سائنسدان درج ذیل امور پر کام کر رہے ہیں:
- شمسی توانائی سے چلنے والے جدید روورز کی تعیناتی۔
- چاند کی مٹی (Regolith) کو تعمیراتی مواد کے طور پر استعمال کرنا۔
- زمین اور چاند کے قطب جنوبی کے درمیان مواصلاتی نظام کا قیام۔

آگے کیا ہوگا؟

اگرچہ ناسا نے اسرو کو دعوت دے دی ہے، تاہم دونوں اداروں کے درمیان ٹیکنالوجی کے تبادلے اور مشن کی تفصیلات پر باضابطہ معاہدوں کا عمل جاری رہے گا۔ خلائی تحقیق کے شوقین افراد کے لیے آنے والے مہینے انتہائی اہم ہوں گے، کیونکہ اس شراکت داری سے چاند پر انسانی موجودگی کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے میں مدد ملے گی۔