پاکستان بھر میں آج نشانِ حیدر پانے والے میجر طفیل محمد شہید کی 68 ویں برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر صدرِ مملکت اور وزیراعظم نے اپنے خصوصی پیغامات میں میجر طفیل محمد شہید کی جرات، بہادری اور وطن کے لیے دی گئی قربانی کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
میجر طفیل محمد شہید کی لازوال قربانی
میجر طفیل محمد شہید کا شمار ان عظیم سپوتوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے ملک کی سرحدوں کا تحفظ کیا۔ ان کی سب سے بڑی عسکری کامیابی 1958 میں لکشمی پور سیکٹر میں بھارتی قبضے کے خلاف کی جانے والی کارروائی ہے۔ اس آپریشن کے دوران انہوں نے جس حکمتِ عملی اور بے جگری کا مظاہرہ کیا، وہ آج بھی پاک فوج کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔
دشمن کی بھاری نفری کے سامنے انہوں نے اپنے جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے فرنٹ سے لڑائی کی اور شدید زخمی ہونے کے باوجود دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ ان کی قیادت میں پاکستانی دستوں نے لکشمی پور سیکٹر کو دشمن کے قبضے سے آزاد کرایا، جس کے دوران انہوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
لکشمی پور سیکٹر آپریشن کی اہمیت
1958 کے اس آپریشن میں میجر طفیل محمد نے دشمن کے مضبوط ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے تین اطراف سے حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ان کی حکمتِ عملی اتنی کامیاب تھی کہ دشمن سنبھل نہ سکا۔ اگرچہ وہ لڑائی کے دوران گولیوں کا نشانہ بنے اور شدید زخمی ہوئے، لیکن انہوں نے اپنے جوانوں کا حوصلہ پست نہیں ہونے دیا اور آخری دم تک مشن کی کامیابی کو یقینی بنایا۔
ان کی اس قربانی نے نہ صرف لکشمی پور سیکٹر کو بازیاب کروایا بلکہ دشمن کے عزائم کو بھی خاک میں ملا دیا۔ آج بھی ملٹری اکیڈمیز میں ان کی اس جرات مندانہ کارروائی کو ایک مثال کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔
قوم کا عزم
برسی کے اس موقع پر ملک بھر میں فوجی چھاؤنیوں اور یادگاروں پر تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے جہاں شہداء کے لیے خصوصی دعائیں کی جا رہی ہیں۔ حکومتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ میجر طفیل محمد شہید جیسے ہیروز قوم کا اثاثہ ہیں اور ان کی قربانیوں کی بدولت ہی آج ہم ایک آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔
- شہداء کی یادگاروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں۔
- ملک بھر کی مساجد اور گھروں میں ایصالِ ثواب کے لیے دعائیں کی گئیں۔
- میڈیا پر ان کی زندگی اور عسکری کارناموں پر مبنی خصوصی دستاویزی فلمیں نشر کی جا رہی ہیں۔
میجر طفیل محمد شہید کی برسی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وطن کی حفاظت کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ قوم آج بھی اپنے اس ہیرو کی عظمت کو سلام پیش کرتی ہے۔
