پاکستان کی نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (CERT) نے ایک critical n-central flaw کے حوالے سے ہنگامی ایڈوائزری جاری کی ہے، جو اداروں کو مکمل سسٹم ہیکنگ کے خطرے سے دوچار کر سکتا ہے۔ یہ سیکیورٹی نقص حملہ آوروں کو بغیر کسی پاس ورڈ کے سسٹم کے ایڈمنسٹریٹو حقوق حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
این-سینٹرل سیکیورٹی نقص کیا ہے؟
یہ خامی این-سینٹرل (N-central) پلیٹ فارم میں پائی گئی ہے، جسے ریموٹ مانیٹرنگ اور مینجمنٹ کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر اس نقص کو فوری طور پر درست نہ کیا گیا تو ہیکرز سسٹم کا مکمل کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں حساس ڈیٹا چوری، رینسم ویئر حملے، یا پورے نیٹ ورک کا کنٹرول ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
نیشنل سرٹ نے ملک بھر کے تمام سسٹم ایڈمنسٹریٹرز اور آئی ٹی ماہرین کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے سافٹ ویئر کو اپ گریڈ کریں۔ یہ خطرہ ان تمام اداروں کے لیے ہے جو پرانے ورژن استعمال کر رہے ہیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اپنے سسٹم کو محفوظ بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات فوری طور پر مکمل کریں:
- اپنے موجودہ سافٹ ویئر ورژن کی جانچ کریں۔
- اپنے سسٹم کو فوری طور پر ورژن 2026.3.1.7 یا اس سے جدید ورژن پر اپ ڈیٹ کریں۔
- اپنے نیٹ ورک لاگز کا معائنہ کریں تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کا پتہ چل سکے۔
- این-سینٹرل انٹرفیس تک رسائی کو محدود کریں اور اسے براہ راست انٹرنیٹ پر ایکسپوز نہ کریں۔
اگر آپ کسی سرکاری یا نجی ادارے میں آئی ٹی کے ذمہ دار ہیں، تو اس اپ ڈیٹ میں تاخیر نہ کریں۔ بروقت پیچنگ ہی آپ کے نیٹ ورک کو کسی بھی بڑے حملے سے بچانے کا واحد طریقہ ہے۔
مزید کیا توقع رکھی جائے؟
نیشنل سرٹ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ہدایات پر نظر رکھیں، کیونکہ سیکیورٹی کے حوالے سے مزید اپ ڈیٹس وہاں دستیاب ہوں گی۔ اپنی آئی ٹی ٹیم کو ہدایت کریں کہ اپ ڈیٹ کے بعد بھی سسٹم کی نگرانی جاری رکھیں تاکہ کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کو فوری پکڑا جا سکے۔ تکنیکی تفصیلات کے لیے متعلقہ وینڈر کی آفیشل ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔
