پاکستانی فیڈریشن کی تشکیلِ نو اور اس کی بنیادی ساخت کے حوالے سے جاری قومی مباحثوں نے ہمارے سیاسی طبقے میں موجود سب سے زیادہ موقع پرست عناصر کو کامیابی کے ساتھ بے نقاب کر دیا ہے۔ جب بات اس بات پر ہوئی کہ فیڈریشن کے اندر اقتدار اور وسائل کو کس طرح تقسیم کیا جائے، تو عوامی پلیٹ فارم تیزی سے ایسے افراد سے بھر گئے جو حقیقی ساختی اصلاحات کے بجائے سراسر ذاتی مفاد کے لیے کوشاں ہیں۔

اسلام آباد، لاہور، کراچی اور پشاور کے شہریوں نے مہینوں سے سیاست دانوں کو انتظامی حدود اور صوبائی حقوق پر بحث کرتے دیکھا ہے۔ تاہم، اس جاری قومی مباحثے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بہت سے کردار وفاقی ڈھانچے کی تشکیلِ نو کو محض ذاتی فائدے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہ موقع پرست حقیقی معاشی عدم مساوات کو حل کرنے کے بجائے اس وقت سامنے آتے ہیں جب انتظامی تبدیلیوں کا ذکر ہوتا ہے، اور ریاست کے وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سیاسی موقع پرستوں کا بے نقاب ہونا

پاکستان میں وفاقی اصلاحات کے اردگرد جاری موجودہ گفتگو نے ایک تشویشناک حقیقت کو آشکار کیا ہے۔ مختلف سیاسی دھڑوں کے وہ رہنما جو پہلے علاقائی حقوق کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتے تھے، اب ایسی انتظامی ترجیحات کے ساتھ کھڑے ہو گئے جو فوری سیاسی فائدہ پہنچاتی ہیں۔ عام پاکستانیوں کے لیے یہ رویہ نیا نہیں ہے جو گورنانس کی خرابیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، لیکن اس سیاسی یوٹَرن کی رفتار نے تجربہ کار تجزیہ کاروں کو بھی حیران کر دیا ہے۔

جب آپ صوبائی دارالحکومتوں سے آنے والے بیانات کا جائزہ لیتے ہیں، تو ایک واضح نمو سامنے آتی ہے۔ عوامی مباحثہ، جسے مالیاتی विकेंद्रीकरण، موثر سروس ڈلیوری، اور مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، اشرافیہ کی چالوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ ان موقع پرستوں کو فیصل آباد کے مزدور یا لاڑکانہ کے کسان کی کوئی پروا نہیں؛ ان کی بنیادی تشویش انتظامی ڈھانچہ بننے سے پہلے اثر و رسوخ کے عہدے حاصل کرنا ہے۔

عام شہریوں کے لیے اس کے کیا معنی ہیں

جب سیاست دان ایک دوسرے پر الزامات لگاتے اور فیڈریشن کے لیے مسودے تیار کرتے ہیں، تو مہنگائی، یوٹیلیٹی بلز، اور ٹیکس کا بوجھ عام گھرانوں کے بجٹ کو نچوڑ رہا ہے۔ لامتناہی آئینی بحثوں کی توجہ روزمرہ کی معاشی بقا سے ہٹ جاتی ہے۔ جو شہری ڈسکو س سے آنے والے بجلی کے بلند بلوں کو ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یا پٹرول کی قیمتوں سے پریشان ہیں، وہ اشرافیہ کے اقتدار کی بندر بانٹ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔

بند کمرے کی ان مذاکرات میں شفافیت کا فقدان ہے۔ جب صوبائی اسمبلیاں آئینی تبدیلیوں یا مالیاتی ایوارڈز پر بحث کرتی ہیں، تو عوام کو ایکشن ایبل روڈ میپ کے بجائے پریس ریلیز ملتی ہیں۔ اس سے عام لوگ اندھیرے میں رہتے ہیں کہ ساختی تبدیلیاں ان کے ٹیکسوں، ملازمتوں یا صحت کی سہولیات کو کیسے متاثر کریں گی۔

آگے کیا دیکھنا ہے

آنے والے ہفتوں میں طے شدہ پارلیمانی کمیٹیوں اور سیاسی جماعتوں کے کنونشنز پر گہری نظر رکھیں، جہاں صوبائی گورنانس کے مسودات پر باضابطہ جائزہ لیا جائے گا۔ اس بات کا مشاہدہ کریں کہ آیا اپوزیشن گروپس مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے لیے زور ڈالتے ہیں یا مذاکرات اشرافیہ کی رسہ کشی کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد سے انتظامی تشکیلِ نو کے فیصلوں کے بارے میں سامنے آنے والی معلومات سے باخبر رہیں۔

قارئین کے لیے عملی اقدامات

  • صوبائی اصلاحات پر اپنے مقامی نمائندوں کے ووٹنگ ریکارڈ اور عوامی بیانات کو ٹریک کریں۔
  • اشرافیہ کے اقتدار کی تبدیلی کے بجائے شفاف مالیاتی مرکزیت کے لیے کام کرنے والی سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ساتھ مشغول ہوں۔
  • نیپرا اور ایف بی آر جیسے ریگولیٹری اداروں کی سرکاری تازہ ترین معلومات کی نگرانی کرکے اپنی گھریلو مالیات کو پالیسی جھٹکوں سے بچائیں۔