اسلام آباد: سابق سفارتکار اور سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ قومی یکجہتی پاکستان کے لیے ایک ناگزیر عنصر کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ بات انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے زیراہتمام منعقدہ ایک کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں ملک کو درپیش چیلنجز اور ہائبرڈ وارفیئر کے اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ہائبرڈ وارفیئر اور سلامتی کے خطرات
آئی ایس ایس آئی کے آرمز کنٹرول اینڈ ڈس آرممنٹ سینٹر کی جانب سے منعقدہ تقریب میں 'انڈیاز ہائبرڈ وارفیئر: امپیکیشنز فار پاکستانز نیشنل سیکیورٹی' نامی کتاب کا اجراء کیا گیا۔ اس موقع پر مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ غیر روایتی اور ہائبرڈ ہتھکنڈے بھی ریاستوں کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔
مسعود خان کا کہنا تھا کہ بیرونی دباؤ اور اندرونی خلفشار سے نمٹنے کے لیے ملک کے تمام طبقات کو ایک صفحے پر آنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاشی عدم استحکام اور سیاسی محاذ آرائی ریاست کے دفاع کو کمزور کر سکتی ہے۔
اندرونی اتحاد کی اہمیت
موجودہ ملکی حالات میں ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ تقریب میں شریک ماہرین نے درج ذیل نکات پر زور دیا:
- اندرونی سیاسی ہم آہنگی قومی دفاع کی پہلی لائن ہے۔
- معاشی بحالی کے بغیر مضبوط دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھنا ممکن نہیں۔
- اطلاعات کے اس دور میں پروپیگنڈا کا مقابلہ صرف سچی معلومات اور شفافیت سے کیا جا سکتا ہے۔
شہریوں کے لیے کیا کرنا ضروری ہے؟
ایک عام شہری کے طور پر آپ کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں سے ہوشیار رہیں۔ ملک کے خلاف چلنے والے پروپیگنڈا کا حصہ بننے سے گریز کریں اور معاشرتی سطح پر برداشت کو فروغ دیں۔ قومی سلامتی صرف سرحدوں پر لڑی جانے والی جنگ کا نام نہیں بلکہ یہ معاشی اور معاشرتی استحکام سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
آنے والے دنوں میں دیکھنا یہ ہے کہ پالیسی ساز تعلیمی اداروں اور میڈیا کے ذریعے فکری دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے کیا عملی اقدامات اٹھاتے ہیں۔ معاشی اصلاحات اور سیاسی کشیدگی میں کمی کے حوالے سے اٹھنے والے اقدامات ہی طے کریں گے کہ ریاست کتنی جلدی اندرونی طور پر مستحکم ہوتی ہے۔
