ہیومن رائٹس فوکس پاکستان (HRFP) اور تائیوان فاؤنڈیشن فار ڈیموکریسی (TFD) نے فیصل آباد میں ایک مشترکہ کانفرنس کا انعقاد کیا تاکہ اقلیتوں کا قومی دن 2026 منایا جا سکے، جہاں غیر مسلم شہریوں کے لیے فوری آئینی تحفظات اور قانون سازی کی اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ تقریب 10 اگست 2026 کو سرکاری قومی دن کی آمد پر منعقد کی گئی، جس میں انسانی حقوق کے کارکنوں، مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی تاکہ پاکستان کی پسماندہ برادریوں کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز پر بات چیت کی جا سکے۔
فیصل آباد تقریب کے اہم حقائق اور مطالبات
- تقریب کی تاریخ: 10 اگست 2026 (سرکاری طور پر اقلیتوں کا قومی دن 11 اگست 2026 کو منایا جاتا ہے)۔
- مقام: فیصل آباد، پنجاب، پاکستان۔
- منتظمین: ہیومن رائٹس فوکس پاکستان (HRFP) اور تائیوان فاؤنڈیشن فار ڈیموکریسی (TFD)۔
- بنیادی مطالبات: جبری مذہب کی تبدیلی کے خلاف فوری قانون سازی، اقلیتوں کے لیے ایک خود مختار قومی کمیشن کا قیام، اور توہین رسالت کے قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے عدالتی اصلاحات۔
- انسانی حقوق کی رپورٹنگ کے لیے رابطہ: امتیازی سلوک کا شکار افراد اپنی شکایات درج کرانے کے لیے ایچ آر ایف پی کے آفیشل پورٹل hrfp.org پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
اقلیتوں کا قومی دن 2026 کا اہم ایجنڈا
فیصل آباد کنونشن کے دوران ایچ آر ایف پی کے صدر نوید والٹر نے اس بات پر زور دیا کہ اقلیتوں کا قومی دن 2026 محض علامتی بیانات کا دن نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے پالیسیوں کے نفاذ کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہونا چاہیے۔ مقررین نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ریاست کو زبانی دعووں سے نکل کر اقلیتی خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو جبری شادیوں اور مذہب کی تبدیلیوں سے بچانے کے لیے ٹھوس قانونی تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔
پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 295-A، 295-B، اور 295-C (توہین رسالت کے قوانین) کے غلط استعمال پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ کارکنوں نے نشاندہی کی کہ ذاتی دشمنیاں نبھانے کے لیے جھوٹے الزامات کا سہارا لیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر پوری اقلیتی آبادیوں پر ہجوم کے حملے ہوتے ہیں، جیسے اگست 2023 میں جڑانوالہ کا سانحہ پیش آیا تھا۔ ایچ آر ایف پی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کے 2014 کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرے، جس میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی پولیس فورس قائم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
قائد اعظم کا نظریہ بمقابلہ موجودہ حقائق
ہر سال 11 اگست کو اقلیتوں کا قومی دن قائد اعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947 کو قانون ساز اسمبلی میں دی گئی تاریخی تقریر کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس تقریر میں قائد اعظم نے واضح طور پر کہا تھا کہ شہری اپنے مندروں، مسجدوں یا کسی بھی دوسری عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں اور ریاست کا کسی شہری کے ذاتی عقیدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
تاہم، فیصل آباد تقریب کے شرکاء نے افسوس کا اظہار کیا کہ 2026 میں سماجی و سیاسی حقیقت اس بانی نظریے کے بالکل برعکس ہے۔ سیاسی بااختیاری کا فقدان اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ موجودہ انتخابی نظام کے تحت، صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں اقلیتی نمائندے سیاسی جماعتوں کی مخصوص نشستوں کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں، نہ کہ براہ راست اپنی برادریوں کے ووٹوں سے۔ کارکنوں کے مطابق، یہ نظام غیر مسلم شہریوں کو حقیقی سیاسی نمائندگی سے محروم رکھتا ہے۔
ایچ آر ایف پی اور ٹی ایف ڈی کا اشتراک
ایچ آر ایف پی اور تائیوان فاؤنڈیشن فار ڈیموکریسی (TFD) کے درمیان شراکت داری پنجاب اور دیگر صوبوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی دستاویز سازی میں انتہائی اہم رہی ہے۔ ٹی ایف ڈی کے تعاون سے ایچ آر ایف پی کو نچلی سطح پر مانیٹرنگ، قانونی امداد کے مراکز اور وکالت کی ورکشاپس کو وسعت دینے میں مدد ملی ہے۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو عالمی سطح پر مانیٹر کرنے کے لیے بین الاقوامی اتحاد ضروری ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے GSP+ تجارتی درجے کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اس درجے کی بقا کے لیے پاکستان کو سول، سیاسی اور انسانی حقوق کے 27 بین الاقوامی کنونشنز پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کرنا ہوگا۔
اقلیتی برادریوں کے تعاون کے لیے آپ کیا کر سکتے ہیں؟
ایک شہری کے طور پر، آپ کو خاموش تماشائی بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ ان طریقوں سے اقلیتی حقوق کی حمایت کر سکتے ہیں:
- خلاف ورزیوں کی رپورٹ کریں: اگر آپ اپنے علاقے میں کسی اقلیتی شہری کے خلاف امتیازی سلوک، جبری تبدیلی یا زمین پر قبضے کا واقعہ دیکھیں تو فوری طور پر قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (NCHR) یا ایچ آر ایف پی کو مطلع کریں۔
- بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیں: اپنے محلے میں امن کمیٹیوں کا حصہ بنیں تاکہ مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان غلط فہمیاں دور کی جا سکیں۔
- اقلیتی کاروباروں کی حمایت کریں: اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے دکانداروں اور محنت کشوں کی معاشی مدد کر کے ان کی حوصلہ افزائی کریں۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
آنے والے مہینوں میں، سول سوسائٹی کی تنظیمیں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں زیر التواء اقلیتی حقوق کے بلوں کی پیشرفت کا جائزہ لیں گی۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا وفاقی حکومت اقلیتوں کے لیے ایک بااختیار اور خود مختار قومی کمیشن قائم کرتی ہے یا موجودہ بے اثر نظام ہی برقرار رہتا ہے۔ مزید برآں، پنجاب اور سندھ میں جبری تبدیلی مذہب کے مقدمات میں عدالتوں کے فیصلوں پر عوامی اور میڈیا کی نظریں مرکوز رہیں گی۔
