نوابشاہ ٹریڈرز الائنس کی ڈپٹی کمشنر عبد الصمد نظامانی کے ساتھ ڈی سی آفس دربار ہال میں اہم ملاقات ہوئی جس میں مقامی مارکیٹوں کے مسائل زیر بحث آئے۔ تاجر رہنماؤں نے ضلع بھر کے تجارتی مراکز کو درپیش انتظامی اور میونسپل مسائل سے ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کیا۔ ضلعی حکام نے وفد کے مطالبات کو غور سے سنا اور کاروباری طبقے کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اندرون سندھ میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کو مہنگائی اور یوٹیلیٹی بلوں کی وجہ سے پہلے ہی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات تاجر برادری کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ میونسپل ٹیکسز اور امن و امان کے مسائل براہ راست روزمرہ کے کاروبار کو متاثر کرتے ہیں۔
نوابشاہ کے تاجروں کے اہم مطالبات
شہید بینظیر آباد کے تاجر عموماً درج ذیل مسائل پر ضلعی انتظامیہ سے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں:
- مقامی حکومتوں کی جانب سے بلا جواز میونسپل ٹیکسوں میں اضافہ۔
- بڑے تجارتی مراکز اور بازاروں میں بالخصوص شام کے اوقات میں بہتر سیکیورٹی انتظامات۔
- تجاوزات کے نام پر جائز دکانوں کو نشانہ بنانے کے بجائے غیر قانونی دکانوں کے خلاف یکساں کارروائی۔
- پرانے بازاروں میں پانی کی فراہمی اور بجلی کی غیر اعلانیہ بندش کا خاتمے۔
نوابشاہ کے تاجروں کو اب کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ نوابشاہ یا شہید بینظیر آباد کے علاقے میں کوئی کاروبار چلاتے ہیں، تو مقامی ٹریڈ یونینز کے ساتھ رابطے میں رہیں۔ اپنی دکان یا کاروبار کے تمام میونسپل اور سرکاری کاغذات مکمل رکھیں تاکہ انتظامی کارروائی کے دوران کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ آئندہ ہونے والے فیصلوں پر کڑی نظر رکھیں تاکہ آپ کے مسائل بھی وقت پر اٹھائے جا سکیں۔
آگے کیا توقع کی جائے؟
یہ دیکھنا باقی ہے کہ ڈی سی آفس میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد ضلعی انتظامیہ عملی طور پر کیا اقدامات کرتی ہے۔ تاجروں کو چاہیے کہ وہ میونسپل فیسوں اور پولیس گشت کے حوالے سے آنے والے احکامات پر نظر رکھیں۔ اگر انتظامیہ نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو تاجر برادری آئندہ احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان بھی کر سکتی ہے۔
