نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے لاہور میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے NCCIA arrests three suspects کے تحت ہنی ٹریپ اور سائبر بلیک میلنگ میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق، یہ گروہ سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو اپنے جال میں پھنساتا تھا اور پھر ان کی نجی ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے انہیں بلیک میل کر کے بھاری رقوم بٹورتا تھا۔
نیٹ ورک کا طریقہ کار
ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ملزمان جعلی پروفائلز بنا کر لوگوں سے دوستی کرتے تھے۔ جب متاثرہ فرد ان کے جال میں پھنس جاتا، تو اسے ہنی ٹریپ کا نشانہ بنا کر نجی لمحات کی ریکارڈنگ کی جاتی۔ اس کے بعد ملزمان متاثرین کو دھمکیاں دے کر رقم کا مطالبہ کرتے تھے۔ جب NCCIA arrests three suspects کی کارروائی کے ذریعے ان تک پہنچی، تو ان کے قبضے سے وہ تمام ڈیجیٹل ڈیوائسز برآمد کر لی گئیں جنہیں بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
خود کو محفوظ کیسے رکھیں؟
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، آن لائن دنیا میں احتیاط ہی واحد حل ہے۔ عوام کے لیے درج ذیل ہدایات ضروری ہیں:
- اجنبی افراد کی فرینڈ ریکویسٹ قبول نہ کریں۔
- کسی بھی نامعلوم شخص کے ساتھ نجی تصاویر یا ویڈیوز شیئر نہ کریں۔
- اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ٹو فیکٹر اتھنٹیکیشن (2FA) لازمی آن رکھیں۔
- اگر آپ کو بلیک میل کیا جا رہا ہے، تو رقم دینے کے بجائے فوری طور پر NCCIA کو رپورٹ کریں۔
یاد رکھیں، بلیک میلرز کو رقم دینے سے یہ سلسلہ ختم نہیں ہوتا بلکہ وہ مزید رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔ متاثرین کو چاہیے کہ وہ تمام چیٹس اور پروفائلز کے اسکرین شاٹس محفوظ کر لیں تاکہ تفتیش میں مدد مل سکے۔
آئندہ کے اقدامات
NCCIA اب ملزمان کے دیگر نیٹ ورکس اور مالیاتی ٹرانزیکشنز کی چھان بین کر رہی ہے۔ اس کیس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر دکھنے والے ہر شخص پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کرنا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایجنسی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر دی جائے تاکہ اس طرح کے جرائم کا تدارک کیا جا سکے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارے ساتھ رہیں۔
