دارالحکومت میں غیر قانونی تکنیکی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے، NCCIA raids foreign-operated call center in Islamabad کے تحت اسلام آباد کے جی 8 سیکٹر میں ایک غیر ملکی کال سینٹر پر چھاپہ مارا گیا۔ نیشنل سائبر کرائم انویستی گیشن ایجنسی نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر یہ کارروائی کی، جہاں مبینہ طور پر غیر قانونی ڈیجیٹل سرگرمیاں اور مالیاتی فراڈ کا سلسلہ جاری تھا۔

جی 8 سیکٹر چھاپے کی تفصیلات

اس کارروائی کے دوران ایک کمرشل عمارت کو نشانہ بنایا گیا جہاں غیر ملکی اور مقامی افراد مبینہ طور پر ایک خفیہ کمیونیکیشن حب چلا رہے تھے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ مرکز بیرون ملک مقیم افراد کو جعلی نمبروں اور وی او آئی پی سیٹ اپ کے ذریعے نشانہ بناتا تھا۔ تفتیش کاروں نے چھاپے کے دوران درجنوں لپ ٹاپ، کمپیوٹر سسٹمز، راؤٹرز اور موبائل فونز قبضے میں لے لیے ہیں۔

غیر قانونی ٹیک آپریشنز کے خلاف کریک ڈاؤن

نیشنل سائبر کرائم انویستی گیشن ایجنسی نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے تجارتی اور رہائشی علاقوں میں غیر قانونی ٹیلی کام اور سائبر نیٹ ورکس کے خلاف نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے ادارے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی اجازت کے بغیر کام کر رہے ہیں اور گرے ٹریفک کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ اسلام آباد میں کمرشل پراپرٹی کے مالک ہیں، تو اپنے کرایہ داروں کی مقامی پولیس پورٹلز کے ذریعے لازمی تصدیق کروائیں۔ غیر ملکی یا ٹیک سے وابستہ کمپنیوں کو جگہ دینے والے مالکان کو چاہیے کہ وہ ان کے لائسنس اور پی ٹی اے کی اجازت نامے ضرور چیک کریں۔ شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ اپنے گردونواح میں ایسی مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر نیشنل سائبر کرائم انویستی گیشن ایجنسی کو دیں۔

اگلی صورتحال کیا ہو سکتی ہے

تفتیش کار ضبط کیے گئے ڈیجیٹل آلات کا فارنزک تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ بین الاقوامی مالیاتی لین دین اور مقامی سہولت کاروں کا سراغ لگایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں گرفتاریوں اور فراڈ نیٹ ورک کے حجم کے حوالے سے مزید سرکاری تفصیلات متوقع ہیں۔