نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی (NDC) نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں جاری نظامی ناکامیوں کا واحد حل نئے صوبوں کا قیام ہے۔ پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کمیٹی نے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو ناکام قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ موجودہ حکومت کو ہٹا کر ایک قومی اتحاد پر مبنی حکومت بنائی جائے جو انتظامی تقسیم نو کے عمل کو مکمل کر سکے۔
پاکستان میں نئے صوبے کیوں ضروری ہیں؟
برسوں سے عوام لاہور، کراچی اور پشاور جیسے صوبائی دارالحکومتوں میں اختیارات کے ارتکاز کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ جب آپ ایف بی آر (FBR) کے ٹیکس معاملات سے نمٹتے ہیں یا نیپرا (NEPRA) اور پی ٹی اے (PTA) کے ریگولیٹری مسائل کا سامنا کرتے ہیں، تو آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ پالیسی ساز اور عام شہری کے درمیان خلیج بہت وسیع ہے۔ این ڈی سی کا موقف ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس بنا کر ہی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور وسائل کو نچلی سطح تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
- مقامی انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے بہتر جوابدہی۔
- ضلعی سطح پر صحت اور تعلیم کے لیے فنڈز کی شفاف تقسیم۔
- پسماندہ علاقوں کی بہتر نمائندگی جو فی الحال صوبائی مراکز کی پالیسیوں سے نظر انداز ہیں۔
قومی اتحاد کی حکومت کا مطالبہ
این ڈی سی کا مطالبہ ہے کہ ایک ایسی قومی حکومت قائم کی جائے جو آئینی ترامیم کے لیے اتفاق رائے پیدا کر سکے۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ موجودہ سیاسی پولرائزیشن کی وجہ سے انتظامی اصلاحات ناممکن ہیں، جس کے نتیجے میں معاشی عدم استحکام اور مہنگائی کا بوجھ عام آدمی کے بجٹ پر پڑ رہا ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
بطور شہری، آپ کو اپنے مقامی نمائندوں کے اس تجویز پر ردعمل پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر آپ کا علاقہ موجودہ صوبائی ڈھانچے میں نظر انداز محسوس کرتا ہے، تو مقامی فورمز اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر اس بات کا جائزہ لیں کہ انتظامی تقسیم سے آپ کی زندگی پر کیا اثر پڑے گا۔ الیکشن کمیشن اور صوبائی اسمبلیوں کے اعلانات پر نظر رکھیں، کیونکہ کسی بھی عملی پیش رفت کے لیے قانون سازی ناگزیر ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
حکومت کی جانب سے این ڈی سی کے مطالبے پر ردعمل کا انتظار ہے۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا موجودہ حکومتی اتحاد ان مطالبات کو سنجیدگی سے لیتا ہے یا نہیں۔ پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاسوں پر نظر رکھیں، کیونکہ نئے صوبوں کے حوالے سے کسی بھی آئینی ترمیم کا بل ہی اس بات کی نشاندہی کرے گا کہ یہ مطالبات عملی شکل اختیار کرنے جا رہے ہیں۔
