نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے 2 اگست سے 4 اگست کے درمیان پاکستان کے دریاؤں میں پانی کی سطح میں متوقع اضافے کے پیشِ نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں جاری مون سون بارشوں کے باعث دریاؤں میں طغیانی کا خدشہ ہے جس کے لیے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دریاؤں میں پانی کی سطح میں اضافے کا جائزہ
محکمہ موسمیات اور این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، بارشوں کے حالیہ سلسلے سے بڑے دریاؤں کے کیچمنٹ ایریاز میں پانی کا بہاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ کے نشیبی علاقوں میں مقیم شہریوں کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ حکام دریائی گزرگاہوں پر موجود بیراجوں اور ڈیموں میں پانی کی نگرانی کر رہے ہیں۔
- برسات کے دوران برساتی نالوں اور دریاؤں کو پار کرنے سے گریز کریں۔
- ہنگامی صورتحال کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ہیلپ لائن نمبرز اپنے پاس محفوظ رکھیں۔
- چھتوں پر موجود غیر ضروری سامان کو محفوظ بنائیں تاکہ تیز ہوا یا سیلابی ریلے کے ساتھ نہ بہہ جائے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ نشیبی یا دریا کے قریب رہائشی علاقے میں رہتے ہیں، تو انتظامیہ کی ہدایات کا انتظار کیے بغیر اپنی تیاری مکمل رکھیں۔ اپنے شناختی کارڈ، ضروری دستاویزات، ادویات، پینے کا صاف پانی اور خشک راشن کا ایک بیگ تیار رکھیں۔ موبائل فون کو چارج رکھیں اور پاور بینک کا انتظام کریں کیونکہ شدید موسم میں بجلی کی فراہمی معطل ہو سکتی ہے۔ پانی کی سطح میں اچانک اضافہ محسوس ہونے پر فوراً محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کریں۔
آگے کیا ہوگا؟
آئندہ 72 گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔ این ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پیجز سے تازہ ترین اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔ دیہی علاقوں میں اپنے پڑوسیوں، خاص طور پر بزرگوں اور مویشیوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال کی اطلاع فوری طور پر اپنے قریبی ضلعی انتظامیہ یا ریسکیو 1122 کو دیں۔
