نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمت میں 75 پیسے فی یونٹ کے حالیہ اضافے (nepra electricity tariff hike) کا براہ راست اثر آپ کے اگلے ماہ کے بل پر پڑے گا، جس سے گرمیوں کے اس موسم میں صارفین کی جیب پر مزید بوجھ آئے گا۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے جون 2026 کے ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے تحت اس اضافے کی منظوری دی ہے، جس کے بعد تمام تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو صارفین سے اضافی رقم وصول کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

اہم حقائق ایک نظر میں:
- فی یونٹ اضافہ: 75 پیسے (0.75 روپے)
- طریقہ کار: جون 2026 کا ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے)
- اطلاق: ملک بھر کے تمام ڈسکوز کے صارفین پر (سوائے تحفظ یافتہ لائف لائن صارفین کے)
- ریگولیٹری ادارہ: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)
- سرکاری ویب سائٹ: nepra.org.pk

نیپرا کی نیپرا الیکٹرسٹی ٹیرف ہائیک کی تفصیلات

نیپرا کے باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں جون 2026 کے دوران استعمال کی گئی بجلی پر صارفین سے 75 پیسے فی یونٹ اضافی وصول کریں گی۔ یہ ایڈجسٹمنٹ اس بنیادی قیمت اور اصل اخراجات کے فرق کو پورا کرنے کے لیے کی گئی ہے جو امپورٹڈ کوئلہ، آر ایل این جی اور فرنس آئل کی خریداری پر آئے تھے۔

اگرچہ کاغذ پر 75 پیسے فی یونٹ معمولی محسوس ہوتا ہے، لیکن پاکستان میں بجلی کے بلوں میں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ تنہا لاگو نہیں ہوتی۔ چونکہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی)، الیکٹرسٹی ڈیوٹی اور دیگر تمام ٹیکسز مجموعی یونٹ کی قیمت پر فی فیصد کے حساب سے لگائے جاتے ہیں، اس لیے آپ کے بل میں واقعی اضافہ 75 پیسے سے کہیں زیادہ ہوگا۔

بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے آپ کے بل پر کیا اثر پڑے گا؟

عام صارف کی جیب پر پڑنے والے اثرات کو سمجھنے کے لیے ٹیکسز کے تناسب کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ موجودہ 18 فیصد جی ایس ٹی اور دیگر ٹیکسوں کے ساتھ، بنیاد میں ہونے والا 1 روپے کا اضافہ صارف کو درحقیقت 1.30 سے 1.35 روپے کا پڑتا ہے۔

مختلف استعمال کنندگان کے بلوں پر اس اضافے کا اندازہ درج ذیل ہے:

  • 200 یونٹ (چھوٹا گھرانہ): 150 روپے کا بنیادی اضافہ ٹیکسز شامل ہونے کے بعد تقریباً 195 سے 205 روپے کا بوجھ بنے گا۔
  • 500 یونٹ (متوسط گھرانہ، 1-2 اے سی): 375 روپے کا بنیادی اضافہ حتمی بل میں 485 سے 510 روپے تک کا اضافہ کرے گا۔
  • 1,000 یونٹ (بڑا گھرانہ): 750 روپے کا بنیادی اضافہ بل میں 975 سے 1,020 روپے تک کا اضافی بوجھ ڈالے گا۔

مہنگائی سے پہلے سے پریشان پاکستانیوں کے لیے یہ خبر یقینی طور پر بری ہے کیونکہ شدید گرمی کے موسم میں بجلی کا استعمال کم کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

نیپرا نے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ میں اضافہ کیوں منظور کیا؟

ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ ایک روٹین کا ریگولیٹری طریقہ کار ہے جس کا مقصد پاور سیکٹر کو مالی بحران سے بچانا ہوتا ہے۔ جب بجلی بنانے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن (جیسے کوئلہ، گیس یا تیل) کی اصل قیمتیں سالانہ ٹیرف کے تخمینے سے بڑھ جاتی ہیں، تو نیپرا ڈسکوز کو یہ فرق صارفین پر منتقل کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

جون 2026 کے دوران گرمی کی شدت اور بجلی کی طلب بڑھنے کی وجہ سے تھرمل پاور پلانٹس کا زیادہ استعمال کیا گیا، جس سے بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا اور نیپرا نے اس بقایا رقم کی منظوری دی۔

اپنے بجٹ کی حفاظت کے لیے آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگرچہ ریگولیٹری سرچارجز سے بچنا ممکن نہیں، لیکن آپ چند اقدامات سے اپنے بل پر پڑنے والے اثرات کو کم کر سکتے ہیں:

  • بلنگ کی تاریخیں چیک کریں: اپنے بل پر درج تاریخیں دیکھیں تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ ایف سی اے درست طریقے سے جون کے استعمال پر ہی لاگو ہوا ہے۔
  • پیک آورز کا خیال رکھیں: شام 6 سے رات 10 بجے کے دوران بھاری برقی آلات جیسے واٹر پمپ اور استری کا استعمال کم سے کم کریں۔
  • انورٹر کے درجہ حرارت کی ترتیبات: اے سی کا درجہ حرارت 26 ڈگری پر رکھیں۔ ہر ایک ڈگری کم کرنے سے بجلی کی کھپت میں تقریباً 6 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔
  • ٹیکس ریٹرن فائل کریں: ایف بی آر کی ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں نام شامل کروا کر اضافی ہولڈنگ ٹیکس اور سلیب جرمانے سے بچیں۔

آنے والے دنوں میں کیا توقع رکھیں؟

صارفین کو نیپرا کی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (QTA) کی عوامی سماعتوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ جہاں ایف سی اے ایندھن کی ماہانہ قیمتوں سے متعلق ہے، وہیں کیپیسٹی پیمنٹس اور نیٹ ورک کے نقصانات سہ ماہی بنیادوں پر طے ہوتے ہیں، جو بلوں پر زیادہ طویل المدتی اثر ڈالتے ہیں۔

اس کے علاوہ، نیپرا کی سرکاری ویب سائٹ (nepra.org.pk) کو چیک کرتے رہیں تاکہ سال کی دوسری ششماہی کے دوران متوقع بنیادی ٹیرف ریویژن کے بارے میں معلومات حاصل ہو سکیں۔