نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 25 کلو واٹ تک کے سولر سسٹمز کے لیے لائسنس کی لازمی شرط ختم کر دی ہے، جس سے پاکستان میں شمسی توانائی کے حصول کا عمل کافی حد تک آسان ہو گیا ہے۔ نیپرا سولر ریگولیشنز 2026 میں کی گئی یہ ترمیم ان گھریلو صارفین کے لیے ایک بڑی ریلیف ہے جو بجلی کے بھاری بلوں سے بچنے کے لیے سولر سسٹم کی تنصیب کا ارادہ رکھتے ہیں۔
سولر سسٹم کے حصول کا آسان عمل
اس سے قبل، چھوٹے سسٹمز کے لیے بھی لائسنس حاصل کرنے کا طریقہ کار انتہائی پیچیدہ اور وقت طلب تھا، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ سولر پینلز لگانے سے کتراتے تھے۔ اب 25 کلو واٹ تک کے سسٹمز کے لیے لائسنس کی ضرورت نہ ہونے سے سرکاری کاغذی کارروائی کا بوجھ کم ہو جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں قابل تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دینا اور صارفین کو گرڈ پر انحصار کم کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
آپ کے بجلی کے بلوں پر اثرات
solar system approval process میں نرمی سے اب آپ کے لیے سولر سسٹم لگانا زیادہ سستا اور تیز تر ہو گیا ہے۔ چونکہ لائسنس کے حصول کے لیے درکار طویل انتظار اب ختم ہو چکا ہے، اس لیے آپ اپنی بجلی کی ضروریات کے مطابق سسٹم لگا کر ماہانہ بلوں میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔ زیادہ تر گھریلو صارفین کے لیے 25 کلو واٹ کا سسٹم ان کی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ آپ اپنی پیدا کردہ اضافی بجلی نیٹ میٹرنگ کے ذریعے گرڈ کو فروخت بھی کر سکتے ہیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگرچہ لائسنس کی شرط ختم کر دی گئی ہے، لیکن آپ کو اب بھی کچھ بنیادی اقدامات کرنے ہوں گے:
- کسی مستند سولر کمپنی سے رابطہ کریں تاکہ سسٹم کی تنصیب تکنیکی معیارات کے مطابق ہو۔
- اپنی متعلقہ ڈسٹری بیوشن کمپنی (DISCO) جیسے لیسکو، کے-الیکٹرک یا آئیسکو میں نیٹ میٹرنگ کے لیے درخواست دیں۔
- اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے سولر پینلز اور انورٹرز نیپرا کے منظور شدہ معیار پر پورا اترتے ہوں۔
- مزید معلومات اور تازہ ترین فارمز کے لیے نیپرا کی آفیشل ویب سائٹ www.nepra.org.pk باقاعدگی سے وزٹ کریں۔
مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟
لائسنس کی شرط ختم ہونے کے بعد اب گیند ڈسکوز (DISCOs) کے کورٹ میں ہے۔ صارفین کو یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا بجلی کمپنیاں درخواستوں پر عمل درآمد کو کتنا تیز کرتی ہیں۔ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر کا سامنا ہو، تو آپ نیپرا کے آن لائن پورٹل پر شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ یقینی طور پر ان ہزاروں خاندانوں کے لیے ایک خوش آئند قدم ہے جو مہنگی بجلی سے نجات پانے کے خواہاں ہیں۔
