اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کیے بغیر غزہ سے انخلا نہیں کیا جائے گا، اور انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ تازہ ترین امن منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

اتوار کے روز اپنی دائیں بازو کی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے، نیتن یاہو نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اسرائیل کے فوجی اہداف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اگرچہ اسرائیلی فوج نے اپنی کچھ جارحانہ کارروائیوں کو عملی طور پر روک دیا ہے، لیکن وزیر اعظم نے واضح کیا کہ طویل مدتی حل کا انحصار حماس کی آپریشنل صلاحیتوں کے مکمل خاتمے پر ہے۔

نیتن یاہو غزہ امن منصوبے کو کیوں مسترد کر رہے ہیں

اس امن منصوبے کا مسترد ہونا موجودہ اسرائیلی حکومت اور بین الاقوامی ثالثوں کے درمیان تناؤ کا باعث بنا ہے۔ نیتن یاہو کے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی حکومت ایسی کوئی جنگ بندی قبول کرنے کو تیار نہیں جس میں حماس کا غزہ کی پٹی کے کسی بھی حصے پر کنٹرول باقی رہے۔ اسرائیلی قیادت کے لیے، سیکیورٹی کے کسی بھی معاہدے کی بنیادی شرط حماس کے عسکری ونگ کا خاتمہ ہے۔

  • اسرائیلی فوج نے مبینہ طور پر کچھ کارروائیوں میں کمی کی ہے، لیکن باضابطہ انخلا فی الحال ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔
  • نیتن یاہو کی کابینہ منقسم ہے، لیکن انہوں نے غیر مسلح ہونے کے مطالبے پر سختی سے موقف برقرار رکھا ہے۔
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ منصوبہ، جس کا مقصد علاقائی تصفیہ تھا، اسرائیلی حکومت کی نظر میں سیکیورٹی ضمانتوں کے لحاظ سے ناکافی ہے۔

تنازعہ پر اثرات

پاکستان اور پوری مسلم دنیا کے لیے، یہ پیشرفت اس بات کی علامت ہے کہ غزہ میں انسانی بحران کسی حتمی تاریخ کے بغیر جاری رہے گا۔ انخلا سے انکار کا مطلب ہے کہ فوجی موجودگی اور ناکہ بندی کا موجودہ سلسلہ جاری رہے گا، جس سے خطے کا پہلے سے تباہ حال انفراسٹرکچر مزید دباؤ کا شکار ہوگا۔ سفارتی پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے یہ تنازعہ طویل عرصے تک جاری رہنے کا خدشہ ہے۔

آگے کیا ہوگا

اگر آپ اس ভূ-سیاسی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، تو سعودی عرب، قطر اور مصر سمیت علاقائی طاقتوں کے سفارتی اقدامات پر توجہ دیں۔ یہ ممالک فی الحال نیتن یاہو کے انکار سے پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں امریکہ یا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کسی بھی قسم کے دباؤ کو دیکھنا ضروری ہوگا، کیونکہ یہی وہ ذرائع ہیں جو اسرائیلی موقف میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔

چونکہ زمینی صورتحال مسلسل بدل رہی ہے، اس لیے خبروں کی تصدیق کے لیے متعدد بین الاقوامی ذرائع استعمال کریں تاکہ عارضی جنگ بندی اور حکومتی پالیسی میں اصل تبدیلی کے درمیان فرق کو سمجھا جا سکے۔ حماس کی غیر مسلح کاری کے مطالبے اور جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی دباؤ کے درمیان یہ کشمکش آنے والے وقتوں میں خبروں کا مرکز رہے گی۔