اسرائیلی وزیراعظم بینجامن نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ جب تک حماس کو کمل تور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اسرائیلی فوجیں غزہ میں ہی مقیم رہیں گی۔ انہوں نے اپنے بیان میں یہ دعویَ کیا کہ امریکی صدر بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حماس کو موثر طریقے سے غیر مسلح کیا جا سکتا ہے۔
غیر مسلح کرنے کا اسٹریٹجک مؤقف
نیتن یاہو کے تازہ ترین بیانات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسرائیلی حکومت جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے مطئنہ اہداف پر قائم ہے۔ فوجیوں کی واپسی کو عسکری ڈھانچے کے مکمل خاتمہ سے مشروط کرنے کے بعد، خطے میں جاری کشیدگی میں کمی کے امکانات فی الحال محدود دکھائی دیتے ہیں۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس اعلان سے جنگ بندی کے مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
- عسکری اثاثوں اور سرنگوں کا مکمل خاتمہ
- بین الاقوامی شراکت داروں کی نگرانی میں تصدیقی میکانزم
- سرحدی راہداریوں پر مستقل کنٹرول
بین الاقوامی ردعمل اور امریکی تعاون
اسرائیلی اور امریکی مقاصد میں ہم آہنگی اس پوری مہم کا ایک اہم حصہ بنی ہوئی ہے۔ جہاں ایک طرف عالمی سطح پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی اپیلیں کی جا رہی ہیں، وہیں اسرائیلی کابینہ کا اصرار ہے کہ حماس کی غیرمسلح کاری کے بغیر کوئی دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اس حکمت عملی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک قابض رہنے سے انسانی بحران میں مزید اضافہ ہوگا، جبکہ حامیوں کا موقف ہے کہ یہ اقدام سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
پاکستان میں اس تنازعہ پر نظر رکھنے والے قارئین کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے آئندہ اجلاسوں اور قطر و مصر جیسے ثالثوں کے بیانات کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔ یہ سفارتی ذرائع ہی طے کریں گے کہ عسکری غیرمسلح کرنے کے مطالبات اور فوری امدادی کارروائیوں کے درمیان کوئی لائحہ عمل نکلتا ہے یا نہیں۔ امریکی پالیسیوں میں آنے والی تبدیلیوں پر بھی کڑی نظر رکھنا ہوگی۔
