بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں دو ماہ کے دوران نوے افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور اس تمام صورتحال کا ذمہ دار پاکستان ہے۔ نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انتخابات کا انعقاد محض ایک نمائش اور مذاق ہے جس کے ذریعے زمینی حقائق کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خطے میں معصوم شہریوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور انتخابی عمل کے پیچھے حقائق کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو اجاگر کیا ہے۔ اسلام آباد کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ریاستی جبر کا شکار عام شہری اپنی بنیادی آزادیوں کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جنہیں بھارتی پروپیگنڈے کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس تازہ بیان بازی سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ سفارتی تعلقات میں مزید تلخی آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کی طرف سے اس نوعیت کے بیانات اکثر اندرونی سیاسی مجبوریوں یا عالمی توجہ ہٹانے کے لیے دیے جاتے ہیں۔ عام پاکستانی شہریوں پر اس لفظی جنگ کا فی الحال کوئی براہ راست معاشی اثر نہیں پڑتا، تاہم لائن آف کنٹرول اور خطے کی مجموعی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ متعلقہ سرکاری ادارے کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر مستعد ہیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

  • تصدیق شدہ ملکی خبر رساں اداروں پر بھروسہ کریں اور سوشل میڈیا کی افواہوں سے گریز کریں۔
  • سرحدی کشیدگی کے تناظر میں کسی بھی غیر مصدقہ مواد کو آن لائن شیئر کرنے سے بچیں۔
  • دفتر خارجہ کی باضابطہ پریس ریلیزز اور اپڈیٹس پر نظر رکھیں تاکہ درست معلومات ملتی رہیں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی جانب سے بھارتی الزامات پر باضابطہ جوابی بیان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر سکیورٹی کی صورتحال اور بین الاقوامی سطح پر اٹھنے والے ردعمل کا بھی بغور جائزہ لیا جائے گا۔