وفاقی حکومت کی جانب سے تیار کردہ 2026-31 کی الیکٹرک وہیکلز پالیسی شدید تعطل کا شکار ہو گئی ہے، جس کے باعث مقامی آٹو سیکٹر کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لیے قائم کی گئی وزارتی کمیٹی اپنے تازہ ترین اجلاس میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہی، جس سے ملک میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کا منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔
الیکٹرک وہیکلز پالیسی کیوں پھنسی ہوئی ہے؟
اختلافات کی بنیادی وجہ حکومت کے سبز توانائی کے اہداف اور مقامی آٹو انڈسٹری کے خدشات ہیں۔ حکومت درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے تیزی سے ای وی کی جانب منتقل ہونا چاہتی ہے، جبکہ مینوفیکچررز کو پیداواری صلاحیت اور بنیادی ڈھانچے کی کمی پر تحفظات ہیں۔ اس تعطل کا مطلب یہ ہے کہ وہ پالیسی جو اگلے پانچ سالوں کے لیے ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرنے والی تھی، اب غیر معینہ مدت کے لیے التوا میں ہے۔
انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پالیسی کے بغیر الیکٹرک گاڑیوں کی اسمبلی میں غیر ملکی سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے۔ موجودہ اسٹیک ہولڈرز پرزہ جات کی درآمدی ڈیوٹیز اور چارجنگ انفراسٹرکچر کے لیے بجلی کے نرخوں پر واضح یقین دہانی کے بغیر بھاری سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔
صارفین کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
عام پاکستانی خریدار کے لیے اس تاخیر کا مطلب الیکٹرک گاڑیوں کی دستیابی اور قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال ہے۔ اگر آپ الیکٹرک گاڑی لینے کا سوچ رہے ہیں، تو پالیسی کی عدم موجودگی کا مطلب ہے کہ چارجنگ اسٹیشنز کا نیٹ ورک سست روی کا شکار رہے گا اور ٹیکس سٹرکچر کی وجہ سے گاڑیوں کی قیمتیں زیادہ رہیں گی۔
- ای وی ٹیکس سبسڈی پر کوئی واضح پالیسی نہیں۔
- لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں چارجنگ انفراسٹرکچر کے پھیلاؤ میں غیر یقینی۔
- مقامی سطح پر سستی ای وی ماڈلز کے متعارف ہونے میں ممکنہ تاخیر۔
آٹو سیکٹر کے لیے اگلا قدم
وزارت صنعت و پیداوار اب دوبارہ انڈسٹری کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کرے گی تاکہ خلیج کو کم کیا جا سکے۔ جب تک وفاقی کابینہ حتمی مسودے کی منظوری نہیں دیتی، سیکٹر پرانے اور فرسودہ اصولوں کے تحت کام کرتا رہے گا۔ آپ کو انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (EDB) کی جانب سے درآمدی ڈیوٹیز یا مقامی مینوفیکچرنگ کوٹہ کے حوالے سے کسی بھی تبدیلی پر نظر رکھنی چاہیے۔
فی الحال، ایک ایسی جامع پالیسی کا انتظار جاری ہے جو ماحولیاتی اہداف اور صنعتی حقیقتوں کے درمیان توازن قائم کر سکے۔ حکومت کو اگر 2031 کے برآمدی اور پیداواری اہداف حاصل کرنے ہیں تو اسے جلد از جلد متفقہ لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔
