پاکستان میں طبی ماہرین اور 'وائس آف ہیلتھ کیئر' (VOH) نے 13 اگست 2024 کو منعقدہ ایک اہم گول میز کانفرنس کے بعد uncontrolled hypertension (بے قابو ہائی بلڈ پریشر) کے علاج کے لیے ایک نئی قومی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر کے علاج میں نئی تبدیلی
بہت سے مریضوں کے لیے، بلڈ پریشر کی عام ادویات اکثر بلڈ پریشر کو محفوظ سطح تک لانے میں ناکام رہتی ہیں۔ اس نئی پہل کا محور 'میکانزم پر مبنی نگہداشت' (mechanism-driven care) ہے، جو صرف ادویات دینے کے بجائے مریض کے بلڈ پریشر کے پیچھے چھپی مخصوص جسمانی وجوہات کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد مریض کی انفرادی طبی حالت کے مطابق علاج تجویز کرنا ہے۔
کانفرنس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- بلڈ پریشر کی مزاحمت کی بنیادی وجوہات جاننے کے لیے جدید تشخیص کا استعمال۔
- سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں جدید کارڈیو ویسکولر مانیٹرنگ ٹولز کی فراہمی۔
- جنرل پریکٹیشنرز اور ماہرِ امراضِ قلب کے درمیان مریضوں کے ریفرل نظام کو بہتر بنانا۔
یہ آپ کی صحت کے لیے کیوں ضروری ہے؟
ہائی بلڈ پریشر پاکستان میں فالج اور دل کی بیماریوں کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ اگر آپ کئی ماہ سے دوا لے رہے ہیں لیکن آپ کا بلڈ پریشر مسلسل 140/90 سے اوپر رہتا ہے، تو یہ نئی حکمت عملی آپ کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس کا مقصد ادویات کے غلط استعمال کو روکنا اور مریضوں کے علاج کے تسلسل کو بہتر بنانا ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ کا بلڈ پریشر عام ادویات سے کنٹرول نہیں ہو رہا ہے، تو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا کی مقدار ہرگز نہ بڑھائیں۔ اپنے ڈاکٹر سے 'میکانزم بیسڈ' تشخیصی ٹیسٹ کے بارے میں پوچھیں۔ اپنے اگلے معائنے سے پہلے کم از کم دو ہفتوں تک اپنے بلڈ پریشر کا ریکارڈ رکھیں تاکہ ڈاکٹر کو درست معلومات مل سکیں۔
مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟
امید ہے کہ سال کے آخر تک کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں یہ نئے طبی پروٹوکول نافذ کر دیے جائیں گے۔ عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے مہمات شروع کی جائیں گی تاکہ گھر پر بلڈ پریشر کی درست پیمائش کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔ ان اقدامات سے مریضوں کو زیادہ درست اور ڈیٹا پر مبنی طبی سہولیات میسر آئیں گی۔
