امریکہ منتقل ہونے کے خواہشمند پاکستانی شہریوں کو اب پہلے سے زیادہ سخت ضوابط کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ امریکی حکام نے امیگریشن کی درخواستیں مسترد کرنے کے اختیارات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز (USCIS) کی جانب سے نافذ کی جانے والی نئی پالیسی کے تحت افسران کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ ناقص یا ادھوری دستاویزات والی درخواستوں کو بغیر کسی تنبیہ کے فوراً مسترد کر دیں۔ ماضی میں اگر کسی کاغذ یا دستاویز میں کوئی کمی ہوتی تھی تو متعلقہ حکام مزید ثبوت طلب کرنے کے لیے نوٹس جاری کرتے تھے، جس سے درخواست گزار کو غلطی درست کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔
نئے قواعد کے نفاذ کے بعد اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں امریکی ویزا یا ورک پرمٹ کے لیے اپلائی کرنے والے افراد کو اب انتہائی احتیاط برتنی ہوگی۔ مستقل رہائش، عارضی ورک ویزا، سفری دستاویزات یا شہریت کے حصول کے دوران معمولی سی غلطی بھی پوری فائل کو ضائع کر سکتی ہے۔ پاکستانی شہریوں کے لیے، جو عموماً اپنی مالی دستاویزات، ٹیکس گوشواروں اور ملازمت کے سرٹیفکیٹس کی تیاری کے لیے کنسلٹنٹس پر انحصار کرتے ہیں، اب ذرا سا بھی نقص بھاری پڑ سکتا ہے۔ درخواستیں فوراً مسترد ہونے کی صورت میں نہ صرف فیس ضائع ہوگی بلکہ ملازمت اور تعلیم کے منصوبے بھی متاثر ہوں گے۔
درخواست گزاروں کے لیے نئی ہدایات اور احتیاطی تدابیر
نئے رہنما اصولوں کے تحت امریکی حکام کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ابتدائی طور پر موصول ہونے والی فائل کی بنیاد پر ہی حتمی فیصلہ صادر کر دیں۔ اگر پیدائش کے سرٹیفکیٹ کا ترجمہ درست نہیں ہے یا آمدنی کا ثبوت مبہم ہے، تو کیس کو فوری طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔ اس سختی کا مقصد امریکی اداروں میں التواء کا شکار فائلوں کے بوجھ کو کم کرنا ہے، لیکن اس سے بیرون ملک مقیم افراد کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
پاکستانی درخواست گزاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی فائلیں کورئیر کرنے یا آن لائن پورٹل پر جمع کرانے سے پہلے ہر دستاویز کی باریک بینی سے جانچ کریں۔ کسی بھی کارروائی سے پہلے درج ذیل سرکاری ذرائع سے معلومات ضرور حاصل کریں:
- تمام تازہ ترین پالیسی اپ ڈیٹس کے لیے سرکاری ویب سائٹ uscis.gov ملاحظہ کریں۔
- ورک ویزا اور گرین کارڈ سے متعلق مخصوص شرائط کے لیے امریکی محکمہ خارجہ کے پورٹل سے رجوع کریں۔
- اگر آپ کا کیس پیچیدہ نوعیت کا ہے تو کسی مستند اور رجسٹرڈ امیگریشن وکیل سے لازمی مشورہ کریں۔
فوری مسترد ہونے سے بچنے کے طریقے
ان سخت ضوابط کے دوران اپنے کیس کو محفوظ بنانے کے لیے آپ کو تیاری کا طریقہ کار بدلنا ہوگا۔ اب مکمل اور فول پروف دستاویزات ہی آپ کی سب سے بڑی ڈھال ہیں۔
- ثبوت کے طور پر سیکنڈری حلف ناموں کے بجائے بنیادی اور مستند سرکاری دستاویزات منسلک کریں۔
- اردو میں موجود تمام کاغذات کا مصدقہ اور مجاز مترجم سے انگریزی ترجمہ کروائیں۔
- آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنے کیس کی صورتحال کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہیں۔
آگے کیا توقع کی جاسکتی ہے
امریکہ میں انسانی حقوق اور امیگریشن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ان اختیارات کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر غور کر رہی ہیں، جس سے آنے والے دنوں میں قواعد میں کچھ تبدیلی آسکتی ہے۔ اس دوران پاکستان میں بیرون ملک روزگار اور تعلیم کے مشاورتی اداروں نے بھی اس صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ اگر آپ کی کوئی درخواست پہلے ہی زیر غور ہے تو اپنے تمام رابطہ نمبر اور پتے امریکی محکمے کے پاس اپ ڈیٹ رکھیں تاکہ کوئی بھی اہم نوٹس گم نہ ہو۔
