نیکسا روبوٹس پاکستان مقامی کلاس رومز میں سستی مصنوعی ذہانت (AI) اور روبوٹکس کٹس متعارف کرانے کے لیے چینی مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی کے رہنماؤں کے ساتھ اپنے تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔
کمپنی کے بانی اور سی ای او ایچ ایم حفیظ نے حال ہی میں چینی شراکت داروں کے ساتھ تکنیکی تعاون کو گہرا کرنے کے منصوبوں کا انکشاف کیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد مقامی سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، اے آئی سسٹمز انٹیگریشن، اور خاص طور پر پاکستانی تعلیمی شعبے کے لیے تیار کردہ مصنوعات کی مشترکہ تیاری ہے۔ اس اقدام سے مقامی اسکولوں میں ڈیجیٹل تفریق کو ختم کرنے اور طلبہ کو سستے داموں عملی انجینئرنگ ٹولز فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
نیکسا اور چین کی شراکت داری کے اہم نکات
- بنیادی ہدف: پاکستانی اسکولوں کے لیے سستی تعلیمی روبوٹکس کٹس تیار کرنا۔
- تکنیکی دائرہ کار: مشترکہ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، اے آئی سسٹمز انٹیگریشن، اور کسٹم ہارڈ ویئر مینوفیکچرنگ۔
- بنیادی مستفید کنندگان: پاکستان بھر کے پرائمری، سیکنڈری اور اعلیٰ تعلیم کے طلبہ۔
- اہم مقامات: ابتدائی طور پر لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے تعلیمی اداروں میں اس کا آغاز کیا جائے گا۔
- مقامی زبانیں: سافٹ ویئر انٹرفیس کو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں تیار کیا جائے گا تاکہ طلبہ آسانی سے کوڈنگ سیکھ سکیں۔
نیکسا روبوٹس پاکستان چینی ٹیکنالوجی کا رخ کیوں کر رہا ہے؟
برسوں سے پاکستان کے تعلیمی ادارے عملی روبوٹکس اور کوڈنگ پروگرام شروع کرنے میں مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ درآمد شدہ اسٹیم (STEM) کٹس کی انتہائی زیادہ قیمتیں ہیں۔ اس وقت مغربی ممالک سے درآمد کی جانے والی ایک عام تعلیمی کٹ کی قیمت 35,000 سے 90,000 روپے تک ہوتی ہے، جس میں شپنگ چارجز اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کا بڑا ہاتھ ہے۔
چینی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کر کے، نیکسا روبوٹس پاکستان اس مہنگی سپلائی چین سے بچنا چاہتا ہے۔ چینی شراکت دار تیز رفتار پروٹوٹائپنگ اور انتہائی سستی مائیکرو کنٹرولر پروڈکشن کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس تعاون کے ذریعے نیکسا روبوٹس پاکستان میں ڈیزائن تیار کرے گا، جبکہ چین کی مدد سے انہیں سستے داموں تیار کر کے مقامی مارکیٹ میں لایا جائے گا۔
مقامی کلاس رومز کے لیے اے آئی اور سافٹ ویئر انٹیگریشن
یہ شراکت داری صرف ہارڈ ویئر جوڑنے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا اصل مرکز مشترکہ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ ہے۔ پاکستان کے سرکاری اسکولوں کے بہت سے طلبہ کو صرف انگریزی زبان میں کوڈنگ سکھانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نیکسا روبوٹس کا منصوبہ ہے کہ ایسے سافٹ ویئر انٹرفیس تیار کیے جائیں جو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں کوڈنگ کی ہدایات کو سپورٹ کریں۔
مزید برآں، ان کٹس میں بنیادی اے آئی ماڈلز کی شمولیت سے طلبہ مشین لرننگ اور امیج ریکگنیشن کے عملی تجربات کر سکیں گے۔ اس طرح میٹرک اور او لیول کے طلبہ صرف کتابی نظریات پڑھنے کے بجائے خود اپنے اسمارٹ ڈیوائسز بنانے اور پروگرام کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔
اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو بااختیار بنانا
ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے ہمیشہ پاکستانی یونیورسٹیوں میں عملی اور صنعتی مہارتوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ مشترکہ منصوبہ انجینئرنگ یونیورسٹیوں کو جدید روبوٹکس پلیٹ فارم مہیا کر کے اس خلا کو پُر کرے گا۔ چینی کمپنیوں کے تعاون سے نیکسا روبوٹس یونیورسٹی لیبز کو جدید روبوٹک آرمز اور آئی او ٹی (IoT) ڈویلپمنٹ بورڈز فراہم کر سکے گا جو پہلے انتہائی مہنگے ہونے کی وجہ سے پہنچ سے باہر تھے۔
اسکول کی سطح پر ان سستے ٹولز کی آمد سے ٹیکنالوجی کی تعلیم عام ہو جائے گی۔ اس سے روبوٹکس کی تعلیم صرف اشرافیہ تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ ملتان یا فیصل آباد کے کسی سرکاری اسکول کے طالب علم کو بھی وہی مواقع ملیں گے جو کراچی کے کسی مہنگے نجی اسکول کے طالب علم کو حاصل ہیں۔
آپ کو آگے کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ ایک استاد، اسکول انتظامیہ کے رکن یا والدین ہیں، تو آپ ان اقدامات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں:
- اپنے اسکول کے نصاب کا جائزہ لیں: اسکول مالکان کو چاہیے کہ وہ تعلیمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اداروں سے رابطہ کریں تاکہ روبوٹکس کو کمپیوٹر لیبز کا حصہ بنایا جا سکے۔
- پائلٹ پروگرامز پر نظر رکھیں: نیکسا روبوٹس کے سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں جہاں منتخب اسکولوں کو مفت یا رعایتی آزمائشی کٹس فراہم کی جاتی ہیں۔
- بچوں کی حوصلہ افزائی کریں: والدین اپنے بچوں کو ہارڈ ویئر کٹس استعمال کرنے سے پہلے 'اسکریچ' (Scratch) جیسے مفت کوڈنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے بنیادی کوڈنگ سکھا سکتے ہیں۔
مستقبل کے امکانات
مستقبل میں، پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں 2026 کے آخر تک ان مشترکہ تعلیمی کٹس کی باقاعدہ لانچنگ متوقع ہے۔ ان کٹس کی قیمتیں سب سے اہم عنصر ہوں گی، کیونکہ اسی سے طے ہوگا کہ سرکاری اسکول کتنی جلدی انہیں اپنا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، وفاقی اور صوبائی تعلیمی بجٹ پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے۔ اگر حکومت ان مقامی طور پر تیار کردہ تعلیمی ٹولز پر سبسڈی دیتی ہے، تو آنے والے برسوں میں سرکاری اسکولوں کی کمپیوٹر لیبز کو بڑے پیمانے پر اپ گریڈ کیا جا سکے گا۔
