نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) نے حیدرآباد-سکھر موٹروے (M-6) منصوبے کے لیے آٹھ تعمیراتی کمپنیوں کو باضابطہ طور پر شارٹ لسٹ کر لیا ہے، جو اس تعطل کا شکار منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ کل سولہ تعمیراتی کمپنیوں نے اس منصوبے کے دو پیکیجز کے لیے بولی جمع کرائی تھی، جن میں سے آٹھ بڑی کمپنیوں کو اہل قرار دیا گیا ہے۔

حیدرآباد-سکھر موٹروے منصوبے کی پیش رفت

حیدرآباد-سکھر موٹروے، جسے M-6 کہا جاتا ہے، ملک کے موٹروے نیٹ ورک کو مکمل کرنے کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ سندھ کے شہری مراکز کو آپس میں جوڑنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اس سے کراچی، حیدرآباد اور ملک کے بالائی علاقوں کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں اور مال بردار ٹرکوں کے لیے سفر کے وقت میں نمایاں کمی متوقع ہے۔

  • کل درخواست گزار: 16 کمپنیاں
  • شارٹ لسٹڈ کمپنیاں: 8 بڑی تعمیراتی کمپنیاں
  • منصوبے کا دائرہ کار: دو الگ الگ تعمیراتی پیکیجز
  • موجودہ حیثیت: طویل تاخیر کے بعد منصوبے کی بحالی کی کوششیں

مسافروں کے لیے اہمیت

ایک عام پاکستانی کے لیے، M-6 منصوبہ صرف سڑک کی تعمیر نہیں بلکہ ایک بڑی سہولت ہے۔ مکمل ہونے کے بعد، یہ موٹروے نیشنل ہائی وے (N5) کا ایک تیز اور محفوظ متبادل فراہم کرے گی، جو اکثر ٹریفک کے شدید دباؤ اور حادثات کا شکار رہتی ہے۔ ان آٹھ فرموں کا انتخاب اس بات کی علامت ہے کہ حکومت ان رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے جنہوں نے اس منصوبے کو کئی مہینوں سے التوا میں رکھا ہوا تھا۔

اگر آپ اکثر کراچی اور سکھر کے درمیان سفر کرتے ہیں، تو آپ بخوبی جانتے ہیں کہ موجودہ سفر کتنا تھکا دینے والا ہے۔ ایک فعال موٹروے سفری وقت میں کئی گھنٹوں کی کمی کر سکتی ہے، جس سے ایندھن کے اخراجات میں بچت ہوگی۔ تاہم، تعمیراتی کام کے آغاز اور تکمیل کی حتمی تاریخ کا انحصار اب حتمی بولی کے عمل اور ٹھیکوں کی الاٹمنٹ پر ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

شارٹ لسٹنگ کے مرحلے کے بعد، این ایچ اے اب دونوں پیکیجز کے لیے تکنیکی اور مالی بولیوں کے عمل کی طرف بڑھے گی۔ بولی دہندگان کو اپنی مالی حیثیت اور تکنیکی صلاحیت ثابت کرنی ہوگی تاکہ وہ موٹروے کے معیار پر پورا اتر سکیں۔

ہم قارئین کو مشورہ دیتے ہیں کہ ٹھیکوں کے حوالے سے سرکاری اعلانات کے لیے این ایچ اے کی ویب سائٹ nha.gov.pk دیکھتے رہیں۔ آنے والے چند ماہ فیصلہ کن ہوں گے؛ حکومت کو اس عمل میں شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ ماضی جیسی انتظامی تاخیر سے بچا جا سکے۔ ہم M-6 منصوبے کی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور آپ کو مزید اپ ڈیٹس فراہم کریں گے۔