بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع راج گڑھ میں سیلابی پانی میں کار بہہ جانے سے 4 بچوں سمیت 9 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈرائیور نے بائی پاس پر واقع ایک زیر آب پل کو عبور کرنے کی کوشش کی۔
راج گڑھ حادثے کی تفصیلات
مقامی ذرائع کے مطابق، مسلسل بارشوں کے باعث بائی پاس کا پل سیلابی پانی میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہاں موجود عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے کار ڈرائیور کو پل کی جانب جانے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی اور انہیں خطرے سے آگاہ کیا، تاہم ڈرائیور نے انتباہ کو نظر انداز کر دیا۔ جیسے ہی گاڑی پانی کے تیز بہاؤ میں داخل ہوئی، وہ قابو کھو بیٹھی اور پانی کے ساتھ بہہ گئی۔
امدادی کارروائیاں اور تلاش
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ پانی کا بہاؤ انتہائی تیز ہونے کی وجہ سے تلاش کا عمل شدید متاثر ہو رہا ہے۔ حکام کے مطابق تاحال گاڑی یا کسی بھی مسافر کا سراغ نہیں مل سکا ہے اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
مون سون کے دوران احتیاطی تدابیر
یہ واقعہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک تنبیہ ہے جو مون سون کے موسم میں سفر کرتے ہیں۔ سیلابی صورتحال میں کبھی بھی پانی سے بھرے پل یا راستوں کو عبور کرنے کی کوشش نہ کریں۔ پانی کی سطح بظاہر کم لگ سکتی ہے لیکن اس کا بہاؤ گاڑی کو بہا لے جانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگی کو خطرے میں نہ ڈالیں اور انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔
آگے کیا ہوگا؟
انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو آپریشن کی تازہ ترین صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ متاثرہ علاقے کے رہائشیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے احتیاط کریں۔ حکام کی جانب سے مزید تحقیقات اور تلاش کا کام جاری رہے گا۔
