حکومت کی جانب سے بجلی کے شعبے کی جاری نجکاری کے تحت ایک طاقتور تجارتی گروپ نے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کو خریدنے کے لیے باضابطہ طور پر قدم رکھ دیا ہے۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں درج سات کمپنیوں پر مشتمل ایک کنسورشیم نے فیسکو کو حاصل کرنے کے لیے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے، جو سرکاری اداروں سے جان چھڑانے کے سرکاری منصوبے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
ملک بھر میں نجکاری کا عمل تیز ہو رہا ہے اور اس تازہ ترین اقدام نے انرجی سیکٹر میں بڑے کارپوریٹ کھلاڑیوں کو لا کھڑا کیا ہے۔ فیصل آباد پنجاب کا صنعتی مرکز ہے، اس لیے یوٹیلیٹی ملکیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا براہ راست اثر ہزاروں ٹیکسٹাইল ملز، پاور لومز اور لاکھوں گھریلو صارفین پر پڑے گا۔
نشات گروپ کا کنسورشیم فیسکو کیوں خریدنا چاہتا ہے؟
کارپوریٹ ادارے اس دوڑ میں اس لیے شامل ہو رہے ہیں کیونکہ حکومت گھاٹے میں جانے والی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) سے جان چھڑانے کے لیے سنجیدہ ہے۔ نجکاری کمیشن نے نجی آپریٹرز کے حوالے کرنے کے لیے بولیوں کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ بڑے صنعتی گروپس کے لیے ایک بڑے علاقائی بجلی سپلائر پر کنٹرول حاصل کرنا مینوفیکچرنگ کے مراکز کو بجلی کی مستحکم فراہمی یقینی بنانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
فیسکو فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور میانوالی کے اضلاع میں بجلی فراہم کرتی ہے۔ یہ ملک کی بہتر کارکردگی والی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے، جو اسے نجی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش اثاثہ بناتی ہے۔ اس عمل سے متعلق تمام دستاویزات اور تفصیلات حکومت پاکستان کے نجکاری کمیشن کی آفیشل ویب سائٹ privatization.gov.pk پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
صارفین اور بجلی کے بلوں پر اس کا کیا اثر ہوگا؟
اگر آپ فیصل آباد میں رہائش پذیر ہیں یا مقامی گرڈ پر منحصر کوئی کاروبار چلاتے ہیں، تو آپ سوچ رہے ہوں گے کہ نجی ملکیت میں منتقلی سے آپ کے ماہانہ بلوں پر کیا فرق پڑے گا۔ نیپرا اب بھی بجلی کے مجموعی ٹیرف کو کنٹرول کرتا ہے، اس لیے کوئی بھی نجی خریدار اپنی مرضی سے نرخ نہیں بڑھا سکتا۔ تاہم، بجلی چوری کے خلاف سخت اقدامات، نادہندگان سے بلوں کی وصولی میں تیزی اور سمارٹ میٹرنگ کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔
نجی ادارے سرکاری اداروں کے مقابلے میں زیادہ سختی اور نظم و ضبط سے کام چلاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ لائن لاسز میں کمی، خرابیوں کی فوری درستگی اور بل ادا نہ کرنے والوں کے ساتھ سختی ہو گی۔ دوسری طرف، صنعتی صارفین کو امید ہے کہ کارپوریٹ طرز پر چلنے والی کمپنی سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کم ہوگی اور وولٹیج بہتر رہے گا۔
نجکاری کی اس دوڑ میں آگے کیا ہوگا؟
یہ بولی بڑے کارپوریٹ مقابلے کا صرف پہلا مرحلہ ہے۔ نجکاری کمیشن کنسورشیم کے تمام ارکان کی مالی حیثیت اور تکنیکی صلاحیتوں کا جائزہ لے گا جس کے بعد باضابطہ مالی بولیاں طلب کی جائیں گی۔ آپ کو اس بات پر نظر رکھنی چاہیے کہ دیگر کاروباری گھرانے اس پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور آیا کوئی بین الاقوامی انرجی کمپنیاں مقامی گروپس کے مقابلے کے لیے سامنے آتی ہیں۔
اس سودے کے حتمی ہونے سے پہلے مسابقتی کمیشن آف پاکستان اور نیپرا کی منظوری بھی لازمی ہوگی۔ آنے والے ہفتوں میں پی ایس ایکس میں شامل کمپنیوں کی جانب سے شیئر بازار میں دی جانے والی باضابطہ معلومات پر بھی نظر رکھیں۔
