خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل افریدی نے جمعرات کو صاف کر دیا ہے کہ وہ 27 ستمبر 2024 سے پہلے عدالالہ جیل، راولپنڈی کا دورہ صرف اس صورت میں کریں گے جب وفاقی حکومت انہیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقات کی باضابطہ تصدیق فراہم کرے۔

پشاور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افریدی نے کہا کہ حکومت کو ملاقات کی تاریخ اور مقام کی تحریری تصدیق فراہم کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا، "میں عمران خان سے ملنے کو تیار ہوں لیکن صرف اس صورت میں جب حکام مجھے مناسب شیڈول فراہم کریں۔ "بدون تصدیق، عدالالہ جیل جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔"

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے اس بیان کے بعد عمران خان جیسے سیاسی قیدیوں سے ملاقاتوں کے شیڈول اور شرائط پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ مئی 2023 میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد سے عدالالہ جیل میں ان کی ملاقاتوں پر سخت کنٹرول رہا ہے۔ اکثر ملاقاتوں میں تاخیر ہوتی ہے یا بلا اطلاع منسوخ کردی جاتی ہیں۔

افریدی، جنہوں نے 12 اگست 2024 کو عدالالہ جیل کا دورہ کیا تھا، نے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ حکومت اس دورے کے دوران انہیں ملاقات کی سہولت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا، "میں وہاں ملاقات کی توقع لے کر گیا تھا لیکن کچھ نہیں ہوا۔ اس بار مجھے صافگی چاہئے۔"

وفاقی حکومت، جس کی سربراہی وزیر اعظم شہباز شریف کر رہے ہیں، نے ابھی تک افریدی کے مطالبے پر کوئی عوامی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی عدالالہ جیل میں سیاسی رہنماؤں کی ملاقاتوں کی تصدیق کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

یہ سب اب کیوں ہو رہا ہے؟

عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ اس وقت شدت اختیار کر گیا ہے جب پی ٹی آئی کے رہنما اور حامی ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ خان پر متعدد مقدمات درج ہیں جن میں سائفر کیس اور توشہ خانہ ریفرنس شامل ہیں۔ وہ فی الحال عدالالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کی قانونی ٹیم نے اپنے موکل تک محدود رسائی پر بار بار تشویش کا اظہار کیا ہے۔

افریدی کی تحریری تصدیق کے مطالبے سے جیل دوروں کے طریقہ کار میں شفافیت کی کمی پر وسیع تر نارضگی ظاہر ہوتی ہے۔ 5 ستمبر 2024 کو پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن انہیں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے رسائی سے انکار کر دیا گیا تھا۔

جیل کے دوروں کے حوالے سے قانون کیا کہتا ہے؟

پاکستان کے جیل قوانین 1978 کے تحت قیدیوں کے رشتہ داروں اور وکلاء کو کم از کم ہفتے میں ایک بار ملاقات کا حق حاصل ہے۔ تاہم، حکام "تحفظاتی خدشات" یا "چل رہی تحقیقات" کا حوالہ دے کر اس حق کو معطل کر سکتے ہیں۔

عمران خان کے معاملے میں ملاقاتیں غیر منظم رہی ہیں۔ ان کی قانونی ٹیم نے جیل انتظامیہ کے پاس متعدد درخواستیں دائر کی ہیں لیکن ان میں سے بیشتر کو مسترد کر دیا گیا ہے یا تاخیر کا شکار کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے سیاسی قیدیوں کی رسائی پر کوئی واضح پالیسی فراہم نہیں کی ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

  • 27 ستمبر 2024: وہ آخری تاریخ ہے جو افریدی نے حکومت کو دی ہے۔
  • ممکنہ دورہ: اگر حکومت ملاقات کی تصدیق فراہم کرتی ہے تو افریدی اس تاریخ کے بعد یا اسی تاریخ کو عدالالہ جیل کا دورہ کریں گے۔
  • بغیر تصدیق: اگر حکومت کوئی جواب نہیں دیتی تو افریدی اپنے موقف پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں یا معاملے کو عوامی سطح پر اٹھانے کا سوچ سکتے ہیں۔

افریدی نے عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹखٹانے سے بھی انکار نہیں کیا اگر حکومت تاخیر کرتی رہی۔ انہوں نے خبردار کیا، "اگر ہماری ملاقات کے حق سے انکار کیا جاتا ہے تو ہم قانونی چارہ جوئی کے تمام راستے استعمال کریں گے۔"

آپ کو کیا کرنا چاہئے؟

اگر آپ اس معاملے پر گہری نظر رکھ رہے ہیں تو:

  • سرکاری بیانات پر نظر رکھیں: وزارت داخلہ کی ویب سائٹ (www.moi.gov.pk) پر جیل دوروں کی پالیسیوں پر اپ ڈیٹس چیک کریں۔
  • پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کو فالو کریں: پارٹی قیدیوں تک رسائی کے مسائل اور قانونی چیلنجوں پر باقاعدگی سے اپ ڈیٹس شیئر کرتی ہے۔
  • عدالت کے احکامات پر نظر رکھیں: عدالت عظمیٰ کا کوئی نیا حکم اس معاملے کی دھار بدل سکتا ہے۔

اگلے کیا دیکھنا چاہئے

  • حکومت کا ردعمل: کیا وفاقی حکومت 27 ستمبر تک ملاقات کی تاریخ کی تصدیق فراہم کرے گی؟
  • قانونی ترقی: عمران خان کی قانونی ٹیم کی جانب سے دائر نئے مقدمات یا درخواستیں۔
  • عوامی ردعمل: پی ٹی آئی کے حامیوں اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے افریدی کے مطالبے پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔

یہ کشمکش وفاقی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان سیاسی قیدیوں کے حقوق پر جاری تناؤ کو ظاہر کرتی ہے۔ افریدی کی آخری تاریخ کے قریب آنے کے ساتھ، آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ آیا ملاقات ہو پاتی ہے یا یہ تنازعہ مزید شدت اختیار کر لیتا ہے۔